قومی خبریں

مودی کی مبینہ نفرت انگیز تقریر کیخلاف دائر درخواستیں سپریم کورٹ میں مسترد

الیکشن کمیشن اس معاملے میں اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کر رہا ہے

نئی دہلی، 15مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے پی ایم مودی، مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر اور بھاجپاکے کئی دیگر رہنماؤں کی جانب سے عام انتخابات 2024 میں اپریل۔مئی کے دوران مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریرں کرنے کے الزام میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی الیکشن کمیشن کو ہدایت دینے کی درخواستیں منگل کو مسترد کر دیں۔جسٹس وکرم ناتھ اور ستیش چندر شرما کی بنچ نے ڈاکٹر ایمانی اننت ستیہ نارائن سرما اور دیگر کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کی سماعت میں دلچسپی نہیں ہے۔بنچ نے کہا کہ عدالت اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتی۔بنچ کی سربراہی کر رہے جسٹس ناتھ نے کہاکہ ہم مداخلت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم آرٹیکل 32 کے تحت ایسی ہدایات جاری نہیں کر سکتے۔

عرضی گزاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے عرضی پر جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کر رہا ہے۔ اس پر بنچ نے شروع سے ہی واضح کر دیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرنے کو تیار نہیں ہے۔مسٹر ہیگڑے نے پھر بنچ کے سامنے دلیل دی کہ عدالت کم از کم یہ واضح کر سکتی ہے کہ وہ صرف اس مرحلے پر درخواست پر غور نہیں کر رہی ہے۔عدالت عظمیٰ نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا اور حکم میں اس مرحلے میںکے الفاظ شامل کرنے سے انکار کر دیا۔دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی اس معاملے میں مسٹر مودی اور دیگر کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں کو مسترد کر چکی ہے۔سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر کی تقریروں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے سوشل میڈیا ہینڈلز پر پوسٹ کیے گئے مواد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اتراکھنڈ کے جنگلات میں آتشزدگی مرکز کی مودی سرکار اور دھامی سرکار کولگی سپریم کورٹ سے ’سپریم‘ پھٹکار

نئی دہلی، 15مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بدھ (15 مئی) کو اتراکھنڈ کے جنگلات میں آگ لگنے کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو پھٹکار لگائی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ناکافی فنڈز دینے اور لوک سبھا الیکشن 2024 کی ڈیوٹی کے لیے محکمہ جنگلات کے افسران کو تعینات کرنے پر اتراکھنڈ حکومت کی تنقید کی۔ عدالت نے مرکز سے پوچھا کہ اس نے ریاست کو ضرورت کے مطابق فنڈ کیوں نہیں دیا۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے فنڈز کے صحیح استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔اس کے ساتھ عدالت نے اس بات پر بھی نکتہ چینی کی کہ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کو بھی الیکشن ڈیوٹی پر لگایا گیا۔ عدالت نے اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری سے کہا کہ وہ جمعہ کو ذاتی طور پر حاضر ہو کر جواب دیں۔

پہاڑی ریاست گزشتہ سال یکم نومبر سے سینکڑوں فعال جنگلات میں لگی آگ سے لڑ رہی ہے جس سے تقریباً 1,145 ہیکٹر جنگلات کو نقصان پہنچا ہے۔سپریم کورٹ مئی کے آغاز سے ہی اتراکھنڈ کے جنگلات میں لگی آگ پر درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ درخواستوں کے مطابق ریاست میں کم از کم 910 واقعات پیش آئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اس حقیقت پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اتراکھنڈ کو جنگل کی آگ سے نمٹنے کے لیے 10 کروڑ روپے کی مانگ کے مقابلے میں صرف 3.15 کروڑ روپے دیے گئے۔

عدالت نے کہا کہ مناسب فنڈز کیوں نہیں دیئے گئے، آپ نے جنگلات کے عملے کو آگ کے درمیان الیکشن ڈیوٹی پر کیوں لگایا؟ پچھلی سماعت میں تنقید کا سامنا کرنے والی ریاست نے کہا تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات جنگلات کے اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹی پر واپس بلایا گیا ہے۔ریاست کے قانونی نمائندے نے آج سہ پہر کہا، چیف سکریٹری نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ اب کسی جنگلاتی افسر کو الیکشن ڈیوٹی پر متعین نہ کیا جائے۔ واضح ہوکہ جنگلاتی آگ کا بیشتر حصہ بارش کے سبب بجھ چکا ہے مگر جو تھوڑا سا باقی ہے، وہ بھی حکومت نہیں بجھا پارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button