تلنگانہ کی خبریں

آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کیرالا پٹرول کی زائد قیمت میں ملک میں سرفہرست

ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ ہونا باعث تشویش ہے۔

حیدرآباد 23 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مرکز اور ریاستوں کی جانب سے عائد ٹیکسوں میں اضافے کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں مقامی ٹیکس اور ٹرانسپورٹ اخراجات کی بنیاد پر قیمتیں الگ الگ درج کی گئی ہیں۔

مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے قیام کے بعد مہنگائی پر قابو پانے کے وعدے کئے گئے تھے، تاہم اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بالواسطہ طور پر مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے جس سے غریب اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق انڈومان و نکوبار میں پٹرول کی قیمت ملک میں سب سے کم 82.46 روپے فی لیٹر درج کی گئی ہے، جبکہ اروناچل پردیش 90.92 روپے فی لیٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

زیادہ قیمت والی ریاستوں میں آندھرا پردیش سرفہرست ہے جہاں فی لیٹر پٹرول 109.46 روپے ہے۔ اس کے بعد تلنگانہ میں 107.46 روپے فی لیٹر اور کیرالا میں بھی قیمت 100 روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔ علاوہ ازیں مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹرا بھی زائد قیمت والی ریاستوں میں شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہندوستان نے ماضی میں ایران سے خام تیل کی خریداری کو امریکہ کے دباؤ کے تحت محدود کیا، جبکہ روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر بھی بین الاقوامی دباؤ برقرار ہے۔ اس صورتحال کا اثر اندرون ملک پٹرول کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

جن ریاستوں میں پٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر سے کم ہے ان میں آسام، چندی گڑھ، دہلی، گجرات، ہریانہ، اترپردیش اور دیگر ریاستیں شامل ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہ ہونے پر عوامی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم قیمت کے فوائد عوام تک منتقل نہیں کئے جا رہے، جس کے باعث مہنگائی کا بوجھ عام آدمی پر برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button