قومی خبریں

بیوی کی اعلیٰ نوکری کے بعد رشتے میں تلخی، شوہر کو بار بار طعنے۔۔۔ ہائی کورٹ نے ختم کی شادی

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کا فیصلہ: شوہر کو بے روزگاری کے طعنے دینا ذہنی ظلم ہے

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ شوہر کو بے روزگاری کا طعنہ دینا اور مالی مشکلات کے دوران غیر معقول مطالبات کرنا ذہنی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس ایک کیس کی سماعت کے دوران دیے اور شوہر کو طلاق دینے کا فیصلہ سنایا۔

جسٹس رجنی دوبے اور جسٹس امتیندر کشور پرساد کی بنچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری اور پرنسپل کی اعلیٰ نوکری ملنے کے بعد بیوی کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئی۔ وہ بدزبان ہو گئی، بار بار شوہر کو کورونا وبا کے دوران بے روزگار ہونے کا طعنہ دیتی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑتی رہی۔

عدالت کے مطابق، بیوی کا شوہر کو ہراساں کرنا، بیٹی کو باپ کے خلاف کرنا، ناجائز مطالبات کرنا اور بیٹے کو چھوڑ کر گھر چھوڑ دینا ذہنی اذیت اور شادی کو نظرانداز کرنے کی مثال ہے۔ عدالت نے فیملی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں شوہر کو طلاق دینا درست ہے۔

شوہر نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری اس کے تعاون سے حاصل کرنے اور پرنسپل کی نوکری ملنے کے بعد بیوی مغرور ہوگئی۔ وہ اکثر نوکری پر طعنے دیتی اور کورونا کے دوران آمدنی بند ہونے پر اسے مسلسل پریشان کرتی۔ بعد میں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ گھر چھوڑ گئی اور شوہر اور بیٹے سے تعلقات توڑ لیے۔

بیوی عدالتی نوٹس کے باوجود پیش نہیں ہوئی اور کوئی جواب داخل نہیں کیا۔ اس کے باوجود فیملی کورٹ نے شوہر کی درخواست خارج کردی، جسے شوہر نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے تفصیلی سماعت کے بعد شوہر کو طلاق دے دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button