نئی دہلی، 14نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکزی حکومت نے عبادت گاہوں کے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کا جواب دینے کے لئے سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ حکومت میں اعلیٰ سطح پر بات چیت چل رہی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے 12 دسمبر تک کا وقت دیا۔ کیس کی اگلی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔12 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو عبادت گاہوں کے قانون کے خلاف دائر درخواستوں پر 31 اکتوبر تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ 9 ستمبر کو عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔
عدالت نے جمعیتہ العلماء ہند کی طرف سے قانون کی حمایت میں دائر درخواست پر بھی نوٹس جاری کیا تھا۔خیال رہے کہ8 ستمبر کو بنارس کے سابق راجہ ( کاشی نریش) وبھوتی نارائن سنگھ کی بیٹی کماری کرشنا پریا نے عبادت گاہوں کے قانون کو چیلنج کرتے ہوئے ایک نئی درخواست دائر کی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ کاشی کی راج شاہی ریاست کے سابق حکمران کاشی کے تمام مندروں کے متولی تھے، اس لئے انہیں کاشی کے شاہی خاندان کی جانب سے اس ایکٹ کو چیلنج کرنے کا حق ہے۔ایک درخواست ایڈوکیٹ کرونایش کمار شکلا نے دائر کی ہے۔ کرونایش کمار شکلا ایودھیا کے ہنومان گڑھی مندر کے پجاری بھی رہ چکے ہیں۔ بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے نے بھی عبادت گاہوں کے قانون کو چیلنج کرتے ہوئے ایک عرضی دائر کی ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ سبرامنیم سوامی کی جانب سے بھی درخواست دائر کی گئی ہے۔
گیان واپی احاطہ میں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قرار دینے سے متعلق عرضی پر 17 نومبر کو فیصلہ
وارانسی ، 14نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گیان واپی معاملے میں وارانسی کی سول فاسٹ ٹریک کورٹ میں پیر کے روز سماعت ہوئی۔ بعد ازاں سول جج سینئر ڈویژن مہندر کمار پانڈے کی عدالت نے اس پر فیصلہ کو 2 دن کے لیے ملتوی کر دیا۔ اب اس معاملے میں 17 نومبر کو فیصلہ سنایا جائے گا۔ دراصل ہندو فریق کی طرف سے داخل عرضی میں 4 مطالبات کیے گئے ہیں جن میں سے ایک ہے ،گیان واپی احاطہ میں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا جانا۔ 17 نومبر کو عدالت فیصلہ سنائے گی کہ یہ عرضی قابل سماعت ہے یا نہیں۔



