✍️مومن فیاض احمد ،لیکچرر و کرئیر کونسلر،صمدیہ جونیر کالج،بھیونڈی
گزشتہ ماہ رمضان میں ۱۷؍اپریل کو اردو کے مشہور اخبار میں ایک رپورٹ کے مطابق نو پاڑہ کوکنی مسجد میں مسلمانوں کے لیے سرکاری دستاویز بنوانے کی مہم شروع کی گئی ہے۔جس میں مسجد کے اراکین نے ایک کمرہ مختص کردیا ہے۔ اس کے لیے مہاراشٹر مائنا ریٹی این جی اور فورم(ایم ایم این ایف) اور باندرہ خدمت کمیٹی کا تعاون شامل ہے جو سرکاری دستاویزات جیسے پیدایشی سرٹیفیکٹ،راشن کارڈ، پین کارڈ،آدھار کارڈ، ڈومیسائل،ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ وغیرہ بنانے کا کام شروع کردیا ہے۔اس کار خیر کو وہ مقدس ماہ رمضان میں شروع کیے ہیں وہ تمام لوگ قابل مبارک باد ہیں۔بہت سے لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا ہے کہ یہ دستاویزات کہاں سے بنائی جاتی ہے اور دلالوں کے چکر میں اپنا وقت اور پیسہ دونوں ضائع کرتے ہیں۔
اس مہم کو ہر گلی ،ہر محلے اور ہر اسکول میں شروع کرنے کی ضرورت ہے۔اگر اسکول کے پرنسپل ،انتظامیہ توجہ دیں توکام میں اورا بھی آسانی ہوسکتی ہے۔کچھ اسکولوں نے اس کام کو کیا بھی ہے ۔یہ مسلسل کرنے والا کام ہے ۔یہ دستاویزات کس طرح سے بنتی ہے اس کی معلومات ہر ایک کو ہونا چاہیے۔ ممبئی کی ایک مسجد سے اس کام کی شروعات ہو چکی ہے ۔دوسرے علاقوں میں بھی اس مہم کو شروع کرنے کی سخت ضرورت ہے۔تاکہ قوم کے ہر فرد کے پاس ان کی سرکاری دستاویزات ان کے پاس موجود رہے۔
انشاء اللہ اس خبرکے مثبت نتائج برآمد ہوں گے قوم کے بہت سے لوگوں کو معلومات بھی مل جائے گی ساتھ ہی ساتھ دستاویزات بھی بن جائیں گے۔کچھ برسوں پہلے کلکٹر نے ایک آڈر جاری کیا تھا کہ اسکولوں میں ہی اوبی سی،ڈومیسائل ،انکم سرٹفییکیٹ وغیرہ بنا کر دیا جائے اس دوران بڑی تعداد میں سرٹیفیکیٹ مفت میں بنائے گئے تھے ۔اگر سماجی ادارے اس جانب بھی کوشش کرتے ہیں تو بہتر اقدام ہوگا۔
دسویں اور بارہویں کی چھٹیاں شروع ہوچکی ہے۔ اسکولوں میں ملنے والی چھٹیوں کا طلبہ کو بہت بے چینی سے انتظار رہتا ہے۔گرمی کی چھٹیوں کی مدت کافی طویل ہوتی ہے۔طلبہ کے ساتھ ساتھ والدین اور سرپرست بھی بہت سے منصوبے بناتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔اسکولوں کے امتحانات کا سلسلہ تقریباً ۲۰ ؍اپریل ۲۰۲۲ تک مکمل ہو جائے گا۔اسکولوں کے طلبہ کو ان امتحانات کے بعد فرصت کے لمحات میسر آئیں گے۔ ایچ ایس سی اور ایس ایس سے کے امتحانات پہلے ہی ختم ہو چکے ہیں ایچ ایس سی اور ایس ایس سی امتحانات کے نتائج عام طور پر جون کے پہلے ہفتے میں ظاہر ہوتے ہیں۔
بارہویں سائنس کے طلبہ فی الحال سیٹ اور نیٹ کی تیاروں میں مصروف ہیں۔ اس کے بعد انہیں بھی فرصت مل جائے گی۔ ان امتحانات میں کامیاب ہونے والے طلبہ کا داخلہ اگست کے مہینے تک جاری رہتا ہے۔یعنی کہ امتحانات ختم ہونے سے داخلے تک تقریبا پانچ مہینے کا وقفہ ہوتا ہے۔ فرصت کے لمحات اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے ۔اس نعمت سے طلبہ ، والدین اور سرپرست ضرور فائدہ اٹھائیں۔طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ضروری دستاویزات کو اگر ان چھٹیوں کے دوران ہی بنا لیں تو آگے انہیں پریشانی نہیں ہوگی۔
اگر دیئے گئے دستاویزات طلبہ خود سے بناتے ہیں تو انہیں بہت سی معلومات بھی مل جائے گی اور ان کے پیسے بھی میں کم خرچ ہوں گے اوریہ معلومات دوسروں تک پہنچا کر ان کی رہنمائی بھی کر سکتے ہیں۔ جس طرح سے ممبئی نوپاڑہ کوکنی مسجد سے سرکاری دستاویزات بنانے کی یہ مہم شروع کی گئی ہے۔کیا دوسروں علاقوں میں بھی یہ مہم شروع کرنے کے لیے ہم سب تیار ہیں؟
او بی سی:۔
ہمارے ملک میں آزادی کے بعد ہی سے پسماندہ طبقوں اور جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کو بہت سے حقوق دئے گئے ہیں ۔ذات کی بنیاد پر دی جانے والی سہولتوں کی وجہ سے او بی سی(OBC) کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اسی لیے اس کام کے لیے بڑی باریک بینی سے جانچ ہوتی ہے۔عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایس ایس سی اور ایچ ایس سی نتائج کے بعد زیادہ تر طلبہ ،والدین اور ان کے سرپرست او بی سی، ڈوماسائل اور دیگر دستاویزات کے لیے تحصیلدار آفس میں درخواست دیتے ہیں۔ او بی سی کے لیے لگنے والے ضروری کاغذات کی معلومات نہ ہونے، اگلے کورس میں داخلہ لینے کے لیے کم وقت اور بہت زیادہ بھیڑہونے کی وجہ سے اکثر طلبہ داخلے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ فرصت کے وقت کو غنیمت جانتے ہوئے آج ہی سے دی گئی سرکاری دستاویزات کی تیاری میں لگ جائیں تاکہ انہیں آگے کسی دشواری کا سامنا نہ پڑے۔
او بی سی کے لیے لگنے والے ضروری کاغذات:۔
۱) درخواست فارم کا نمونہ جس پر پانچ روپیہ کا کورٹ فیس اسٹمپ چسپاں کرنا ہے۔
۲) حلف نامہ(Affidavit )
۳)راشن کارڈ
۴) لیونگ سرٹیفیکیٹ؍بونافائیڈ سرٹیفیکیٹ
۵) والد ؍بھائی؍بہن؍والد کی بہن(پھوپھی) ؍چاچا؍یا گھر کے کسی قریبی رشتے دار کا اوبی سی۶) 13-10-1967 سے پہلے کا کوئی بھی کاغذ مثلاً گھر پٹی؍پاورلوم پرمٹ؍نل پٹی؍الیکٹرک بل ؍ لیونگ سرٹیفیکیٹ وغیرہ۷)سو سائٹی کا داخلہ
او بی سی کے فوائد:۔
۱)ذات کی بنیاد پر پرائمری، سیکنڈری،جونیر کالج،ڈگری کالجوں میں سیٹ محفوظ ہوتی ہے۔
۲)روزگار کے لیے سرکاری اداروں میں کوٹا محفوظ ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی زمین کی خریداری میں رعایت(سرکاری) کوٹہ سے ملنے والے مکانوں میں کوٹہ محفوظ ہوتا ہے۔
۳)مختلف الیکشن جیسے گرام پنچایت، میونسپل کونسل ، کارپوریشن ،ضلع پریشد، ودھان سبھا،لوک سبھا الیکشن میںاو بی کے امیدواروں کے لیے حلقے محفوظ کیے جاتے ہیں۔
ویلیڈیٹی سرٹیفیکیٹ:۔ او ۔بی ۔سی حاصل کرنے کے بعد اسے ان طلبہ کے لیے تصدیق (Validity) کروانا ضروری ہوتا ہے جو پیشہ ورانہ کورسیس جیسے میڈیکل ، انجینیرنگ فارمیسی وغیر ہ میں داخلہ لینا ہوتا ہے۔ اس کے لیے طلبہ کو آن لائن فارم بھرنا ہے۔جس کے لیے طلبہ ویب سائٹ سے فیض حاصل کر سکتے ہیں۔فارم مکمل کرنے کے بعدپرنٹ آئوٹ اور او بی سی کے لیے جو کاغذات لگے تھے ۔ان تمام ضروری کاغذات کو طلبہ جس جونیر کالج میں تعلیم حاصل کر رہیں ہیں وہاں جمع کرنا ہے۔جونیر کالج کے ذمہ داران متعلقہ شعبے میں جمع کرتے ہیں ۔ویلیڈیٹی سرٹیفیکیٹ کے لیے ایک کمیٹی ہوتی ہے جو طلبہ سے پوچھ تاچھ کرنے کے بعد یہ سند جاری کرتی ہے۔واضح ہو کہ اس پر تفصیلی مضمون اسی کالم میں اس سے قبل شائع ہو چکا ہے جس میں پوری تفصیلی معلومات دی جا چکی ہے۔
ڈوماسائل:ـاعلی تعلیم مثلا میڈیکل، انجینیرنگ ، ڈگری کورسیس ،ملازمت کے ساتھ ساتھ حکومت کے اہم محکموں میں ملازمت کے لے ڈوماسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے اسے بھی طلبہ چھٹیوں کے دوران ہی بنا لیں۔
ڈوماسائل کے لیے لگنے والے ضروری کاغذات:
۱) درخواست فارم کا نمونہ جس پر پانچ روپیہ کا کورٹ فیس اسٹمپ چسپاں کرنا ہے۔
۲) پیدائشی سرٹیفیکیٹ؍ لیونگ سرٹیفیکیٹ؍بونافائیڈ سرٹیفیکیٹ
۳)اگر طلبہ کی عمر ۱۸؍سال سے کم ہے(نابالغ) ہے تو والد کا ڈوما سائل
۴) اگر طلبہ کسی دوسری ریاست سے تعلق ہے تو۱۰ ؍سال سے مہاراشٹر میں رہے رہا ہے اس کو ثبوت۔
۵)راشن کارڈ؍پاسپورٹ؍الیکشن کارڈ
نان کریمی لیئر سر ٹیفیکیٹ:
سپریم کورٹ کی ایک ہدایت کے مطابق پسماندہ جماعتوں کے لیے نان کریمی لیئر سرٹیفیکیٹ بھی ضروری ہے۔
نان کریمی لیئر کے لیے کاغذات:
۱) درخواست فارم کا نمونہ جس پر پانچ روپیہ کا کورٹ فیس اسٹمپ چسپاں کرنا ہے۔
۲) او بی سی کا زیروکس،
۳)راشن کارڈ
۴) انکم سرٹیفیکیٹ
۵)حلف نامہ ،
۶) پنچ نامہ
انکم سرٹیفیکیٹ:۔ انکم سرٹیفیکٹ بھی اب بہت ضروری ہو گیا ہے یہ بھی تحصیلدار سے حاصل کیا جاتا ہے ۔عام طور پر طلبہ کو جو اسکالر شپ کا فارم بھرتے ہیں ان کے لیے انکم سرٹیفکیٹ بہت ضروری ہے۔
انکم سرٹیفیکیٹ کے لیے لگنے والے ضروری کاغذات:
۱) درخواست فارم کا نمونہ جس پر پانچ روپیہ کا کورٹ فیس اسٹمپ چسپاں کرنا ہے۔
۲) راشن کارڈ
۳) اگر کوئی سرکاری ملازم ہے تو پچھلے تین سال کا انکم ٹیکس کا ریٹرن بھی لگے گا۔درخواست فارم میں چار صفحات طبع شدہ ہوتے ہیں جس میں حلف نامہ ،عریضہ فارم، تلاٹھی کا عریضہ فارم اور انکم سرٹیفیکٹ کا نمونہ ہوتا ہے۔جتنی انکم آپ کو درکار ہے وہ تحریر کر کے انکم سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکتے ہیں
زندگی کے ہر شعبے میں آج یہ بہت ضروری ہو گیا ہے۔طلبہ حکومت مہاراشٹر کے ذریعے ترتیب دیا گیا MS-CIT کا کورس ضرور کریں۔یہ آگے سرکاری ملازمت میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ اسٹاف سلیکیشن کمیشن امتحان میں انگلشں اور مراٹھی ٹائپنگ کی متعلق بھی پوچھا جاتا ہے۔شارٹ ہینڈ بھی ضرور سیکھیے۔ اسی کے ساتھ انگلشں اسپیکنگ کلاس بھی جوائنٹ کریں۔
انگلشں سیکھنے کی کوشش کریں۔ موبائیل میں بہت سے انگلشں ایپ ہیں ا س کی مدد سے بھی آپ انگلشں سیکھ سکتے ہیں جیسے الفا بیٹا انگلشں ، ہیلو انگلشں وغیرہ۔ تمام زبانیں اللہ تعالی کی ہی بنائی ہوئی اس لیے جو زبانیں ہمیں ضروری معلوم ہوتی ہے اسے ضرور سیکھیے۔ چونکہ مہاراشٹر میں رہنے والوں کی سرکاری زبان مراٹھی ہے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے مراٹھی زبان کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح میونسپل کارپوریشن، کورٹ ، سرکاری دفاتر میں مراٹھی زبان میں ہی کام کاج ہوتے ہیں۔اسی کے ساتھ ہی سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے ۱۰۰ مارکس کا مراٹھی کا پرچہ دینا ہوتا ہے۔اگر ہمیں مقابلے میں رہنا ہے تو اپنے فرصت کے وقت کا بھرپور استعمال کریں ۔محنت کریں اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کریں انشاء اللہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔لہذا طلبہ سرپرست والدین سے درخواست ہے کہ ان چھٹیوں کے لمحات کو منصوبہ بند طریقے سے گزاریں تاکہ آئندہ مستقبل میں کسی طرح کی بھی مشکل پیش نہ آئیں۔



