عام طور پر بیر کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک کو جنگلی اور دوسرے کو باغی کہتے ہیں۔ اس کا رنگ سبز، سرخ اور زرد ہوتا ہے۔ ترش بیر کا مزاج سردو خشک درجہ اول ہے، خشک بیر گرم ہوتا ہے۔ اس کے حسب ذیل فوائد اور خواص ہیں۔
٭ بیر دیر ہضم ہوتا ہے۔
٭ صفرا اور خون کے جوش کو تسکین دیتا ہے۔ پیاس بجھاتا ہے۔
٭گرم مزاجوں کیلئے نہایت موافق ہے۔
٭ اس کو بھون کر دست اور پیچش میں استعمال کیا جاتا ہے۔
٭ بیر کی لکڑی کا برادہ خون کے بہنے کو بند کر نے کے لئے انتہائی مفید ہوتا ہے۔
٭ اس کا پانی جگر کا سدہ کھولتا ہے۔
٭ بیر کا استعمال آنتوں اور معدہ کے کیڑوں کو مارتا ہے۔
٭ اس کے پتوں کاجوشاندہ بنا کر اس سے سر دھونے سے بال مضبوط ہوتے ہیں اور گرنے بند ہو جاتے ہیں۔
٭ اس کے پتوں کا ورم پر لیپ مفید ہوتا ہے۔
٭ پیچش اور مروڑ کے فوری علاج کے لئے جنگلی بیر کی جڑ ایک تولہ، کالی مرچ سات عدد، پانی میں گھوٹ کر دن میں تین بار پلانا مفید ہوتا ہے۔
٭ خشک بیر سخت قابض ہوتا ہے اور تبخیر پیدا کرتا ہے۔
٭ بیر خون صاف کرتا ہے۔
٭ بینائی بڑھاتا ہے۔
٭ بیرکے پتے (ایک چھٹانک) ڈیڑھ سیر پانی میں جوش دے کر ٹھنڈا کرکے سر دھونے سے بخار کی شدت، سر درد اور سرسام میں مفید ہے۔ بخار کی شدت کی صورت میں اس میں برف ڈالی جا سکتی ہے۔
٭ بیر کی لاکھ موٹاپا کم کرنے کی بہترین دوا ہے۔ اس کا نسخہ درج ذیل ہے، بیر کی لاکھ ڈیڑھ گرام، بارہ روز تک روزانہ دن میں کسی بھی وقت ہمراہ پانچ تولے عرق بادیان (سونف) استعمال کریں، صبح ناشتہ کے ایک گھنٹہ بعد اس کا استعمال انتہائی مفید ہے۔
٭ بلڈ پریشر کو دور کرنے کے لئے برادہ صندل سفید، خشک دھنیا، چوب چینی تینوں ہم وزن لے کر سفوف بنائیں۔ تین گرام سفوف بکری کے دودھ کے ساتھ کھائیں۔ اس کے ساتھ ہی ترش بیری کے پتے ایک تولہ صبح پانی میں بھگو کر شام کو مل کر چھان کر پئیں۔ انتہائی مفید ہے۔
٭ عمدہ قسم کے بیروں کا جام اور مربہ بھی بنایا جاتا ہے۔
٭ عمدہ بیر کو پاکستانی سیب بھی کہتے ہیں، یہ وٹامن بی کمپلکس کا خزانہ ہے۔ اس میں وٹامنز اے، بی اور سی ہوتے ہیں۔
٭ اگر کسی کا دل گھبراہٹ سے ڈوب رہا ہے تو چار دانے بیر کھلانے سے ٹھیک ہو جائے گا۔
٭ بیر ہمیشہ پکا ہوا کھانا چاہیے۔ کچا بیر کھانسی کرتا ہے۔
٭ بیر کے استعمال سے چہرے کے داغ دھبے اور چھائیاں دور ہوجاتی ہیں۔
٭ بیر جسم کے زہریلے مادوں کو خارج کر تا ہے اور جسم کو زہریلے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔
٭ اس کے پتے اگر کسی بچے کو کڑوی دوائی پلانے سے پہلے چبوائے جائیں تو پھر اس کڑوی دوائی کا احساس نہیں رہتا۔
٭ بیری کی جڑ کا چھلکا چھ تولے ایک پاؤ پانی میں اچھی طرح جوش دیں، اب چھا ن کر چینی ملا کر چند روز تک پئیں۔ اس سے بدن موٹا ہوجاتاہے اور چہرے کا رنگ نکھر آتا ہے۔ بچوں کے لئے مفید نسخہ ہے۔
٭ باربار پیشاب آنے کی صورت میں کچے بیر معہ گٹھلی چند روز تک کھانا انتہائی مفید ہوتا ہے۔
٭ تلی کی بیماری میں بیری کے پتے تین کلو پانی میں جوش دیں، جب ایک کلو رہ جائے تو چھان کر روزانہ پانچ تولہ پانی استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔
٭ ضعف جگر میں بیری کی جڑ اچھی طرح دھو کر پانی میں جوش دیں، پھر چھان کر چینی ملا کر دوبارہ آگ پر رکھیں اور شربت تیار کریں، دو چمچ شربت صبح و شام پینا مفید ہوتا ہے۔
٭ اعصابی تھکن، کمر کی مضبوطی، بھوک کی زیادتی اور جوڑوں کے درد میں بیری کی جڑ کو صاف کر کے پانی میں جوش دیں، جب تیسرا حصہ رہ جائے تو اس کو چھان کر چینی ملا کر شربت بنالیں۔ یہ شربت جوش دے کر نہیں بنانا بلکہ صاف چینی ملا کر رکھ لینا ہوتا ہے۔ چند روز کے استعمال ہی سے بے حد فائدہ ہوتا ہے۔
٭ عمدہ بیروں کا گودہ کاٹ کر خشک کر کے رکھا جا سکتا ہے۔ کچے بیر کا سالن بنایا جاتا ہے۔



