داؤدی بوہرہ فرقہ کی تقریب میں پی ایم مودی کی شرکت
میں یہاں نہ پی ایم ہوں اور نہ سی ایم، آپ سے 4 نسلوں سے جڑا ہوں: پی ایم مودی
ممبئی،10فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ (10 فروری) کوداؤدی بوہرہ فرقہ کے الجامعہ السیفیہ عربی اکیڈمی کے ممبئی کیمپس کا افتتاح کیا۔ اس دوران انہوں نے داؤدی بوہرہ برادری کے پروگرام سے بھی خطاب کیا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ میں آپ کے خاندان کا فرد ہوں۔ مجھے شکایت ہے کہ آپ نے بارہا کہا کہ ’معززوزیراعظم‘، میں آپ کے خاندان کا فرد ہوں، میں نہ وزیراعلیٰ ہوں اور نہ وزیراعظم۔ میں بوہرہ برادری سے 4 نسلوں سے وابستہ ہوں۔پی ایم مودی نے مزید کہا کہ الجامعہ السیفیہ کیمپس کا دورہ میرے اپنے خاندان سے ملنے جیسا ہے۔ یہ میرا خاندان ہے اور میںا پنے گھر میںہوں۔ بہت کم لوگوں کو وہ نصیب ہوا ہے جو میرے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کمیونٹی، معاشرے یا ادارے کی شناخت اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہ وقت کے ساتھ اپنی مطابقت کو کتنی برقرار رکھتی ہے۔ وقت کے ساتھ تبدیلی اور ترقی کے اس امتحان پر داؤدی بوہرہ برادری نے ہمیشہ خود کو ثابت کیا ہے۔
آج الجامعۃ السیفیہ جیسے اہم تعلیمی اداروں کی توسیع اسی کی زندہ مثال ہے۔داؤدی بوہرہ برادری کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ داؤدی بوہرہ برادری کے ساتھ میرا رشتہ نہ صرف پرانا ہے ،بلکہ کسی سے پوشیدہ بھی نہیں ہے۔اپنے ایک دورے کے دوران میں نے ’سیدنا ‘صاحب کو 98 سال کی عمر میں 800 سے زائد طلباء کو پڑھاتے ہوئے دیکھا۔ وہ واقعہ مجھے آج تک متأثر کرتا ہے۔ میں ملک میں ہی نہیں بیرون ملک بھی جاتا ہوں، میرے بوہرہ بھائی اور بہنیں مجھ سے ملنے ضرور آتے ہیں۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، چاہے وہ کسی بھی ملک میں کیوں نہ ہوں، ہندوستان کے لیے ان کی فکر اور ہندوستان کے لیے محبت ہمیشہ نظر آتی ہے۔
پی ایم مودی نے کہا کہ جب بھی مجھے سیدنا محمد برہان الدین سے بات کرنے کا موقع ملا، ان کی سرگرمی اورشخصیت نے مجھے ہمیشہ متأثر کیا ہے۔ گجرات سے دہلی آنے کے بعد بھی وہ مجھ پرنوازشوں کی بارش کرتے رہے۔پی ایم مودی نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ تعلیم کے میدان میں ہندوستان کبھی نالندہ اور تکشیلا جیسی یونیورسٹیوں کا مرکز تھا۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں سیکھنے اور پڑھنے آتے تھے۔ اگر ہمیں ہندوستان کی شان کو واپس لانا ہے تو ہمیں تعلیم کے اس فخر کو بھی واپس لانا ہوگا۔



