پی ایم مودی کی ڈگری تنازع: گجرات ہائی کورٹ نے علیحدہ مقدمے کی سماعت کی عرضی خارج کردی
گجرات ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے نچلی عدالت کے احکامات کو برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پی ایم مودی کی تعلیمی ڈگری سے متعلق تنازع میں عام آدمی پارٹی کو ایک بڑا عدالتی جھٹکا لگا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی علیحدہ ٹرائل کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد دونوں رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت ایک ساتھ جاری رہے گی۔
جسٹس ایم آر مینگاڈے کی سربراہی میں گجرات ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے نچلی عدالت کے احکامات کو برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں۔ تاہم، تفصیلی عدالتی حکم نامے کی مصدقہ کاپی کا ابھی انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ گجرات یونیورسٹی کے رجسٹرار پیوش پٹیل کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اروند کیجریوال اور سنجے سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری کے حوالے سے یونیورسٹی کے بارے میں طنزیہ اور تضحیک آمیز بیانات دیے، جس سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
اپریل 2023 میں، گجرات ہائی کورٹ نے چیف انفارمیشن کمشنر کے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا جس میں پی ایم مودی کی ڈگری کو عوامی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے گجرات یونیورسٹی پر تنقیدی بیانات دیے۔
شکایت کنندہ کے مطابق، یہ بیانات جان بوجھ کر ایک باوقار تعلیمی ادارے کی شبیہ خراب کرنے کے لیے دیے گئے اور میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر پھیلائے گئے، جس سے یونیورسٹی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، کیجریوال اور سنجے سنگھ نے نچلی عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بیانات، الزامات اور تاریخوں میں فرق ہے، اس لیے ان پر الگ الگ مقدمات چلائے جائیں۔ تاہم ٹرائل کورٹ اور بعد ازاں سیشن کورٹ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔
سیشن کورٹ نے 15 دسمبر کے اپنے فیصلے میں کہا کہ دونوں رہنماؤں نے 1 اور 2 اپریل 2023 کو ایک ہی سیاسی جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے بیانات دیے اور ایک ہی مقصد کے تحت ایک ہی لین دین کا حصہ بنے، اسی بنیاد پر علیحدہ ٹرائل کی درخواست مسترد کر دی گئی۔



