پی ایم مودی کا سنسنی خیز انکشاف: کے سی آر این ڈی اے اتحاد میں شمولیت کے تھے متمنی ، مگر میں نے منع کردیا
پی ایم مودی تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات سے قبل نظام آباد پہنچے
حیدرآباد، 3اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پی ایم مودی تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات سے قبل نظام آباد پہنچے ۔ اس دوران ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر کوبی جے پی کا سخت ترین ناقد سمجھا جاتا ہے۔ وہ پارٹی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں شامل ہونا چاہتے تھے، لیکن میں نے انہیں اس اتحاد میں شامل ہونے سے روک دیا تھا۔پی ایم مودی کے دعویٰ کے مطابق کے سی آر جانتے ہیں کہ ان کی بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے این ڈی اے میں شامل ہونے کی کئی کوششیں کیں۔ ان کی انفرادی طور پر تردید کی گئی۔ میں نے صاف لفظوں میں کہا کہ میں اور ہماری پارٹی تلنگانہ کے لوگوں کو دھوکہ نہیں کرے گی۔پی ایم مودی نے الزام لگایاکہ ان لوگوں نے جمہوریت کو لوٹ مار کے نظام میں بدل کر جمہوریت کو خاندانی نظام میں بدل ڈالا ہے۔
پی ایم نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے این ڈی اے میں شامل ہونے کو کہا اور حیدرآباد میونسپلٹی (انتخابات) میں ان کی مدد کرنے کو کہا، لیکن میں نے انکار کردیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم تلنگانہ کے لوگوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے (کے سی آر) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے بہت کام کیا ہے اور اب وہ تمام ذمہ داری کے ٹی راما راؤ کو دینا چاہتے ہیں۔ میں انہیں ابھی بھیجوں گا، براہ کرم انہیںاپنا آشیرواد دیں۔ پی ایم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تلنگانہ لیڈر سے کہا کہ میں نے کہا کے سی آرصاحب! یہ جمہوریت ہے۔
آپ کون ہوتے ہیں کے ٹی آر کو سب کچھ دینے والے؟ کیا آپ بادشاہ ہیں؟’ اس کے بعد وہ کبھی میرے سامنے نہیں آئے، مجھ سے آنکھ ملانے کی سکت نہیں رکھتے۔وہیں پی ایم مودی کے بیان کا جواب دیتے ہوئے بی آر ایس کے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ اسی لیے بی جے پی کو جھوٹ کا سب سے بڑا کارخانہ کہا جاتا ہے اور وزیر اعظم خودجھوٹ کی’ واٹس ایپ یونیورسٹی‘ کے چانسلر ہیں۔بی آر ایس لیڈر نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ بی آر ایس نے کرناٹک میں کانگریس کو فنڈ دیا اور اس نے ہمیں این ڈی اے میں شامل نہیں ہونے دیا۔ کیا ہمیں کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ ہم این ڈی اے میں شامل ہو جائیں؟ آج شیوسینا، جے ڈی یو، ٹی ڈی پی سمیت کئی پارٹیاں شرومنی اکالی دل نے بی جے پی چھوڑ دی ہے۔ آپ کے ساتھ کون ہے؟ اس پر بھی ذرا غور کریں۔ بدعنوانی کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی سمجھتے ہیں کہ وہ بہت صاف ستھرے ہیں اور دوسرے بدعنوان ہیں۔میں پی ایم مودی کو یاد دلانا چاہتا ہو ںکہ آخر ہیمنت بسواسرمانارائن کے ضمن میں کیا ہوا؟ ان پر جو بھی الزامات اور کیس تھے، بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد وہ تمام کیس ہٹالئے گئے ۔



