کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو سچا دوست بتاکرراجیہ سبھا میں جذباتی ہوگئے وزیر اعظم نریندر مودی
کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو سچا دوست بتاکرراجیہ سبھا میں جذباتی ہوگئے وزیر اعظم نریندر مودی

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس جاری ہے۔ اجلاس کا پہلا مرحلہ 15 فروری تک جاری رہے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں ایک مختصر خطاب کیا ۔ اس دوران پی ایم مودی جذباتی ہوگئے۔ دراصل راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈرغلام نبی آزاد کی مدت اختتام پذیر ہورہی ہے اور وزیر اعظم ان سے متعلق ایک پرانے واقعے کو یاد کرکے جذباتی ہوگئے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ جب غلام نبی جی وزیر اعلی تھے ، میں بھی ایک ریاست کا وزیر اعلی تھا۔ ہم بہت قریب تھے۔ ایک بار گجرات کے کچھ مسافروں پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ، اس میں 8 افراد ہلاک ہوگئے۔ سب سے پہلے مجھے غلام نبی جی کا فون آیا۔ ان کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ اس وقت پرنب مکھرجی وزیر دفاع تھے۔
میں نے ان سے کہا کہ اگر لاش کو لانے کے لیے فوج کا ہوائی جہاز مل جائے تو اچھا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ فکر نہ کرو ، میں انتطام کرتا ہوں۔پی ایم مودی نے مزید کہاکہ غلام نبی جی اس رات ہوائی اڈے پر تھے۔ انہوں نے مجھے فون کیا اور جیسے اپنے گھر والوں کے لیے فکرمند ہوتے ہیں ویسے ہی فکرمندتھے۔ اقتدارزندگی میں آتا رہتا ہے ، لیکن اسے کیسے محسوس کیا یہ بات کوئی غلام جی سے سیکھے۔
یہ میرے لئے بہت جذباتی لمحہ تھا۔ دوسرے دن مجھے فون آیا۔ مودی جی سب پہنچ گئے۔ لہٰذا ایک دوست کی حیثیت سے میں غلام نبی جی کا واقعہ اور تجربے کی بنیاد پر احترام کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی نرمی ، عاجزی ملک کے لئے کچھ کرنے کی خواہش انہیں سکون سے نہیں بیٹھنے دے گی۔ ان کے تجربے سے ملک کو فائدہ ہوگا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد کو ایک حقیقی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے فکر ہے کہ غلام نبی جی کے بعد جو بھی اس عہدے پر فائز ہوگا ،
غلام نبی جی سے میچ کرنے میں بہت پریشانی ہوگی ، کیونکہ غلام نبی جی اپنی پارٹی کے بارے میں فکر کرتے تھے اور ملک اور ایوان کی بھی یکساں طور پر فکرمند تھے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں بلکہ بہت بڑی بات ہے۔



