پولیو سے متاثرہ یہ شخص 70 سال سے مشین میں بند ہے،کہانی جان کر آپ بھی حیران رہ جائینگے۔ویڈیو
جب وہ محض 6 سال کا تھا تو پولیو کا شکار ہو گیا۔ وہ سال 1952 کا تھا۔
کیا کوئی شخص مشین میں بند رہ سکتا ہے اور وہ بھی دہائیوں تک؟ آپ کہیں گے کہ ایسا ممکن نہیں، لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے ہی شخص کے بارے میں بتانے جارہے ہیں،جو 5-10 سال سے نہیں بلکہ 70 سال سے مشین کے اندر بند ہے۔ اس کا سارا کھانا پینا اسی مشین کے اندر ہوتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مشین میں بند ہونے کے باوجود اس نے تعلیم حاصل کی، ڈگری حاصل کی اور کتاب بھی لکھی۔ تاہم جب آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ شخص اتنے سالوں سے مشین میں کیوں بند ہے تو یقیناً آپ کے آنسو بہہ جائیں گے۔اس شخص کا نام پال الیگزینڈر ہے ۔ ان کی عمر 77 سال ہے۔
لوگ اسے پولیو پال کے نام سے بھی جانتے ہیں ۔ امریکہ کے رہائشی پال کی کہانی کچھ یوں ہے کہ پال کی پیدائش 1946 میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔جب وہ محض 6 سال کا تھا تو پولیو کا شکار ہو گیا۔ وہ سال 1952 کا تھا۔ امریکہ میں 1952 میں تاریخ کا سب سے بڑا پولیو پھیل گیا۔ بیماری تیزی سے پھیل رہی تھی۔ کم از کم 58,000 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر بچے تھے۔ پال کو بھی پولیو ہو گیا۔اس بیماری کی وجہ سے اس کا پورا جسم مفلوج ہو گیا۔ صرف اس کی گردن کے اوپر کا حصہ کام کر رہا تھا اور اس کے باقی جسم میں کوئی جان باقی نہیں تھی۔
ایسی حالت میں اسے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگی، جس کے بعد اسے مشین وینٹی لیٹر میں ڈال دیا گیا، تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ اس مشین کا نام آئرن لنگ Iron lung ہے۔
امریکہ نے 1979 میں خود کو پولیو سے پاک ملک قرار دیا۔ لیکن تب تک پال کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی۔ بیماری سے لڑنے کے لیے اسے Iron lung لوہے کی پھیپھڑوں کی مشین وینٹی لیٹر میں رکھا گیا۔ یہ مشین 1928 میں ایجاد ہوئی تھی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے 60 کی دہائی کے بعد ان کا بننا بند ہو گیا۔ اس وقت پال دنیا کا واحد شخص ہے جو اس میں رہتا ہے۔ ٹیکنالوجی نے ترقی کی لیکن پال نے اسی مشین کے ساتھ رہنے پر اصرار کیا۔ وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بعد میں ایسی ٹیکنالوجی تیار کی گئی کہ پال کو مشین سے باہر نکالا جا سکتا تھا لیکن پال نہیں چاہتے تھے کہ وہ مشین سے باہر نکلے۔ اس نے مشین کے اندر رہنے کے لیے اپنی زندگی کا انتخاب کیا۔ اب پال لوہے کے پھیپھڑوں کی اس مشین میں سب سے زیادہ زندہ رہنے والا مریض بن گیا ہے۔ ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج ہو چکا ہے۔ ان کی دیکھ بھال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ سال ایک فنڈ بھی جمع کیا گیا تھا۔ ایک فنڈ ریزر نے اس کے لیے 1 لاکھ 32 ہزار ڈالر یعنی تقریباً 1 کروڑ 9 لاکھ روپے جمع کیے تھے۔
ایسی حالت میں بھی پال نے تعلیم جاری رکھی
رپورٹس کے مطابق اتنی مخدوش حالت میں ہونے کے باوجود پال نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ انہوں نے نہ صرف کالج سے گریجویشن کیا بلکہ قانون کی ڈگری بھی لی اور اس کے بعد انہوں نے اپنے اوپر ایک کتاب بھی لکھی۔ ان کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے منہ سے شاندار پینٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔ الیگزینڈر پال نے کہا کہ وہ کوئی دوست نہیں بنا سکتے کیونکہ جب بھی میں دوست بناتاہوں وہ مرجاتےہیں۔انھوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر ڈاکٹر انکے سامنے کہتے کے یہ جلد مرجائے گا اسے زندہ نہیں رہنا چاہیئے۔ڈاکٹر کی ان باتوں سے غصہ آتا اور وہ جینے کی ضد میں آج تک زندہ ہے۔



