جنگ کے بعد فلسطینی اتھارٹی غزہ پر حکومت کرے: برطانیہ
برطانیہ بھی امریکہ میں انتقال منتقلی سے قبل غزہ کی جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔
لندن،14نومبر (ایجنسیز) جو بائیڈن انتظامیہ اپنی ذمہ داروں کے خاتمے سے قبل غزہ کی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور نو منتخب صدر کو اقتتدار منتقلی اس حال میں کرنا چاہ رہی ہے کہ غزہ میں جنگ جاری نہ ہو۔ دوسری طرف برطانیہ بھی امریکہ میں انتقال منتقلی سے قبل غزہ کی جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔برطانوی وزیر مملکت برائے مشرق وسطیٰ ہمیش فاکنر نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک غزہ جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے گفتگو میں مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو جنگ کے بعد غزہ پر حکومت کرنی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’انروا‘‘ کا کوئی متبادل نہیں ہے اور دو ریاستی حل دونوں فریقوں کے لیے اہم ہے۔ان کا ییہ بیان امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے بدھ کے روز کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ اسرائیل نے محصور پٹی میں اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ بلنکن نے صحافیوں سے مزید کہا تھا کہ امریکہ غزہ کی پٹی میں حقیقی اور توسیعی جنگ بندی چاہتا ہے تاکہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے حماس پر کچھ حقیقی دباؤ ڈالنا بھی اچھا خیال ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ غزہ کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا بہترین طریقہ جنگ کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسانی امداد کی رسائی کی ذمہ داری اسرائیل پر ہے۔ بلنکن نے مزید تفصیلات ظاہر کیے بغیر اعلان کیا کہ ان کے ملک نے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے غزہ سے حماس کے جنگجوو?ں کے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کی پیشکش کی ہے۔



