پرشانت کشور نے بہار انتخابات میں اپنی غلطی تسلیم کر لی
انہیں توقع نہیں تھی کہ ان کی پارٹی جنسوراج کو 4 فیصد سے بھی کم ووٹ ملیں گے۔
پٹنہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بہار اسمبلی انتخابات میں ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہنے والے سیاست دان اور حکمتِ عملی ساز پرشانت کشور نے بالآخر اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا مگر اسے ان کی غلطی سمجھا جا سکتا ہے۔ کشور نے اعتراف کیا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ان کی پارٹی جنسوراج کو 4 فیصد سے بھی کم ووٹ ملیں گے۔
پرشانت کشور نے کہا کہ شاید بہتر نتائج کے لیے مزید محنت اور منظم حکمت عملی کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جنسوراج کو 4 فیصد سے کم ووٹ ملیں گے، لیکن اب ہم آئندہ انتخابات کے لیے نئے سرے سے خود کو تیار کریں گے۔”
انتخابی شکست کے بعد کئی دنوں تک خاموش رہنے والے کشور جب میڈیا کے سامنے آئے تو انہیں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک رپورٹر نے پوچھا کہ کیا وہ اپنی ناکامی کے بعد سیاست چھوڑ دیں گے؟ جس پر انہوں نے کہا: “میں کس عہدے پر ہوں کہ میں اسے چھوڑ دوں؟”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر نتیش کمار کی حکومت واقعی ₹10,000 کی اسکیم اور پھر خود روزگار کے لیے چھ ماہ کی 2 لاکھ روپے کی گرانٹ نافذ کر دیتی ہے، تو وہ سیاست چھوڑنے پر غور کریں گے۔ ان کے مطابق، اگر یہ اسکیمیں واقعی نافذ ہوتیں تو جے ڈی یو 25 سیٹیں بھی نہیں جیت پاتی۔
پرشانت کشور نے 2 اکتوبر 2022 کو جنسوراج مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ بہار کے مختلف اضلاع میں پیدل مارچ، جلسوں اور عوامی رابطہ مہمات میں مسلسل سرگرم رہے۔ انہوں نے اس انتخاب میں بھی بھرپور مہم چلائی، لیکن نتائج توقع کے برعکس رہے۔کشور نے یہ بھی کہا کہ وہ بہار کے مسائل حل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ ان کا مقصد انتخابات جیتنا نہیں بلکہ عوام کا دل جیتنا ہے۔



