الٰہ آباد،29 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش کے الٰہ آباد (پریاگ راج) میں گزشتہ تین ماہ کے دوران کئی دھماکوں کے مبینہ طور پر ذمہ دار 11 طلباء کو گرفتار کیا گیا ہے۔یہ الزام لگایا گیا ہے کہ معروف اسکولوں کے طلبا کے دو گروپوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں علاقے میں یکے بعد دیگرے کروڈ بم دھماکے ہوئے۔ تمام ملزمان میں سے 10 نابالغ جبکہ ایک بالغ ہے۔ پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ شیلیش پانڈے بتایا کہ پولیس نے نابالغ ملزم کو جوینائل اصلاحی گھر اور بالغ کو جیل بھیج دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ان طالب علموں نے سوشل میڈیا پر مختلف ناموں سے مختلف گروپس بنائے ہیں جیسے جیگ وار، مایا، امر اور تانڈو، جن میں ہر گروپ میں تقریباً 300 ممبران شامل ہیں۔
اپنا غلبہ ظاہر کرنے کے لیے وارداتوں کو انجام دیتے تھے اور بعد میں ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرتے تھے۔ وہ زیادہ طلبا کو اپنے گروپ سے جوڑنے کے لیے ایسا کر رہے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار طلباء نے بتایا کہ انہیں کسی اور جگہ سے بم نہیں ملے ،بلکہ وہ خود انہیں یوٹیوب کی مدد سے بناتے تھے۔ بموں کے لیے رقم ان پیسوں سے آتی تھی جو طلبا اپنے والدین سے اسکول کی سرگرمیوں کے نام پر لیتے تھے۔وہ بازار سے دھماکہ خیز مواد کے خریدتے تھے۔
پولیس نے اے این آئی کو بتایا کہ پہلا بم دھماکہ سنگم کے علاقے میں ہوا اور جولائی کے مہینے میں تقریباً پانچ بم دھماکے ہوئے۔پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حرکتوں پر نظر رکھیں۔ پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ اب طلبا کے خلاف سخت قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔پولیس نے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے گزشتہ ماہ سے تقریباً 35 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور جہاں بھی ہمیں کوئی مشتبہ سرگرمیاں ملتی ہیں، ہم کارروائی کر رہے ہیں۔ پولیس اس معاملے میں مزید تفتیش جاری رکھے گی۔



