پاکستان میں طاقتور زلزلہ آنے کی پیشین گوئی، موضوع بحث
زلزلہ آنے کے متعلق ڈچ محقق فرینک ہوگربیٹس کی پیش گوئی کو حکام بھی سنجیدگی سے لے رہے ہیں
اسلام آباد، 4اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سائنس برادری کا کہنا ہے کہ زلزلوں کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہے لیکن پاکستان میں طاقتور زلزلہ آنے کے متعلق ڈچ محقق فرینک ہوگربیٹس کی پیش گوئی کو حکام بھی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ان کی کئی پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں۔ہالینڈ کے ارضیاتی تحقیق کے ادارے سولر سسٹم جیومیٹری سروس (ایس ایس جی ایس) نے پاکستانی صوبے بلوچستان میں چمن فالٹ لائن پر ایک طاقتورز زلزلے کی پیش گوئی کی ہے۔ایس ایس جی ایس نے سطح سمندر کے فریب ماحولیاتی برقی چارج میں اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ یہ اتارچڑھاؤ زمین کے محور کی گردش سے منسلک ہے۔ ایس ایس جی ایس اپنی تحقیقات کے مطابق ان خطوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ایک سے نو دن کے دوران زلزلہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔
یہ دعوے گوکہ ابتدائی طورپر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کیے جارہے تھے لیکن جب ایس ایس جی ایس کے سیسمولوجسٹ فرینک ہوگربیٹس نے جب اس دعوے کی تائید کی تو اس کو اہمیت حاصل ہوگئی۔ ماضی میں ہوگربیٹس کی گئی کئی پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں۔فرینک ہوگربیٹس نے فروری میں ترکی اور شام میں بڑے زلزلے کی پیش گوئی کی تھی۔ ان کی پیش گوئی کے بعد وہاں 7.8شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
انہوں نے 30 جنوری 2023 کو پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش اور چین میں ارضیاتی سرگرمیوں میں اضافے کی پیش گوئی کی تھی، جس کے بعد7 فروری کو پاکستان میں 6.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں نو افراد ہلا ک ہو گئے تھے۔ گوکہ سائنس برادری کا کہنا ہے کہ اس طرح زلزلوں کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہے لیکن ایرانی میڈیا کی خبروں کے مطابق ایران میں بھی اس پیش گوئی کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں اس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ہے۔فرینک ہوگربیٹس نے فروری میں ترکی اور شام میں بڑے زلزلے کی پیش گوئی کی تھیفرینک ہوگربیٹس نے فروری میں ترکی اور شام میں بڑے زلزلے کی پیش گوئی کی تھی۔سائنس دانوں اور ماہرین ارضیات نے ہوگربیٹس کے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کی وجہ سے آتے ہیں اور زمین کی گہرائی میں ان کی حرکت کے بارے میں پیش گوئی کرنا موجودہ سائنسی علم کے تحت ممکن نہیں ہے۔
پاکستانی محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایس ایس جی ایس کے ذریعہ شناخت شدہ فارمولے کو دنیا کے سائنسی اداروں نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے۔خیال رہے کہ ڈچ ادارے کے سائنس دان نے پاکستان میں زلزلہ آنے کے متعلق 29 ستمبر کو اپنی پیش گوئی کی تھی اور اس کے تین روز گذر چکے ہیں۔اگرچہ سائنسدانوں نے ڈچ سائنسدان کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے، لیکن مقامی حکام اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پشین کے ڈپٹی کمشنر نے پی ڈی ایم اے بلوچستان سمیت تمام متعلقہ محکموں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ ایس ایس جی ایس کی پیش گوئی کے حقیقت بننے کی صورت میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کی جا سکے۔



