تلنگانہ کی خبریں

پکوان گیاس 500 روپئے میں سربراہ کرنے کی تیاریاں تیز

ریاست میں 1.20 کروڑ گیاس کنکشن، محکمہ سیول سپلائز سے تجاویز تیار

سالانہ 6 سلنڈرس کی فراہمی پر 2225 کروڑ، 12 سلنڈرس کی سربراہی پر 4450 کروڑ کا حکومت پر بوجھ

حیدرآباد:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تلنگانہ ریاست کی کانگریس حکومت نے اپنی 6 گیارنٹی میں سے ایک 500 روپئے گیاس سلنڈر کے وعدے پر عمل آوری کیلئے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ محکمہ سیول سپلائز نے مہالکشمی اسکیم پر عمل آوری کیلئے دو تجاویز تیار کی ہیں۔ اندرون 100 یوم اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے ریاست میں گھریلو پکوان گیاس صارفین کی تعداد، سالانہ 6 یا 12 سلنڈرس سربراہ کرنے پر سبسیڈی کی صورت میں حکومت پر عائد ہونے والے مالی بوجھ پر مشتمل رپورٹ تیار کرتے ہوئے وزیر سیول سپلائز اتم کمار ریڈی کو پیش کردی گئی ہے۔ ریاست میں 1.20 کروڑ گھریلو پکوان گیاس کنکشن ہیں جس میں ایچ پی سی ایل کے 43,39,354 کنکشنس ہیں جملہ صارفین 44 فیصد ایسے صارفین ہیں جو ہر ماہ ری فیل کراتے ہیں۔ تقریباً 52.80 لاکھ صارفین ہر ماہ ایک گیاس سلنڈر استعمال کرتے ہیں۔

ریاست میں 89.99 لاکھ راشن کارڈ خاندان کو پہلی تجویز میں شامل کرلیا جائے تو اس اسکیم پر عمل آوری کی جائے تو ایک کروڑ سے زیادہ صارفین کو 500 روپئے میں سلنڈر دینے کی اسکیم پر فوری عمل کیا جاسکتا ہے۔ فی الحال پکوان سلنڈر کی قیمت 955 روپئے ہے۔ ایک گیاس سلنڈر کی بکنگ پر مرکزی حکومت 40 روپئے کی سبسیڈی دے رہی ہے۔ ساتھ ہی اوجل کنکشن پر 340 روپئے کی سبسیڈی حاصل ہورہی ہے۔ ریاست میں 11.58 لاکھ اجول کنکشن ہیں۔ Give it up کے حصہ کے طور پر ریاست میں 4.2 لاکھ صارفین نے سبسیڈی سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ اگر اسکیم کے تحت صارفین کو سالانہ 6 سلنڈرس سربراہ کئے جاتے ہیں تو حکومت پر 2,225 کروڑ روپئے کا اضافی مالی بوجھ عائد ہوگا۔

اگر 12 سلنڈرس دیئے جاتے ہیں تو سالانہ 4450 کروڑ روپئے کا سرکاری خزانہ پر اضافی مالی بوجھ عائد ہوگا۔محکمہ سیول سپلائز کے عہدیداروں کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے۔ قطعی رپورٹ وصول ہونے کے بعد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو پیش کی جائے گی۔ اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرنے کے بعد اسکیم پر عمل آوری کیلئے قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button