بین الاقوامی خبریںسرورق

اشرف غنی افغانستان سے چلے گئے، افغان طالبان کابل کے صدارتی محل میں داخل ہوگئے

کابل: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان کے دارلحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کی خبریں آنے کے بعد صدر اشرف غنی کابل سے چلے گئے ہیں۔افغان میڈیا نے صدر اشرف غنی کے افغانستان چھوڑنے کی تصدیق کردی ہے۔ادھر دفتر افغان صدارت کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کے سبب اشرف غنی کی نقل و حرکت کا کچھ نہیں بتاسکتے۔دوسری جانب سے سینیئر عہدیدار افغان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ #افغان صدر #اشرف غنی تاجکستان روانہ ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ آزاد ذرائع نے تاحال افغان صدر کے کابل چھوڑنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔دوسری طرف برطانوی میڈیا بھی یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اشرف غنی کابل سے تاجکستان پہنچ گئے ہیں۔
اس سے قبل افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی نے #کابل کا دفاع کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔علاوہ ازیں طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ ہم پُرامن اور جلد اقتدار کی منتقلی کے منتظر ہیں۔خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق افغان سیکیورٹی کونسل کے مشیر اور سابق صدر حامد کرزئی کے آفس کے ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔اے پی کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ صدر غنی کے ہمراہ افغان قومی سلامتی کے مشیر محب اللہ محب بھی وطن چھوڑ چکے ہیں۔تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ صدر #غنی #افغانستان سے کس ملک گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے وزارت داخلہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اشرف غنی کابل سے تاجکستان چلے گئے ہیں۔طالبان کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ کابل میں مذاکرات کے بعد صدر غنی نے استعفیٰ دے دیا ہے جسے منظور کر لیا گیا ہے۔طالبان نے مزید بتایا ہے کہ افغان رہنما اور عمائدین قطر کے دارالحکومت #دوحہ جائیں گے جہاں طالبان کو اقتدار کی منتقلی کا عمل طے پائے گا۔
واضح رہے کہ افغان صدارتی محل کی جانب سے اب تک فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔اس سے قبل افغانستان کے قائم مقام وزیرِ داخلہ عبدالستار مرزکوال نے اپنے ایک #ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ کابل میں پرامن انتقالِ اقتدار کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں اور ایک معاہدے کے تحت عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
افغان طالبان نے افغانستان کے دارلحکومت کابل کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور وہ صدارتی محل میں داخل ہوگئے ہیں۔سابق افغان صدر اشرف غنی اقتدار چھوڑ کر تاجکستان چلے گئے ہیں جبکہ طالبان افغان نے فورسز کی چوکیاں سنبھال لیں ہیں۔افغان مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے بھی اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کی تصدیق کردی۔عبداللہ عبداللہ نے ساتھ ہی طالبان سے مذاکرات کے لیے کچھ وقت مانگ لیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کابل میں جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں جن میں تقریباً 40 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف طالبان سے مذاکرات کے لیے عبداللہ عبداللہ آج وفد کے ہمراہ قطر روانہ ہوسکتے ہیں۔ترجمان طالبان کا کہنا ہے کہ طالبان نہ کسی کے گھر میں داخل ہوں اور نہ ہی کسی کو تنگ کریں۔سن 2001ء کے بعد کابل کا منظر نامہ ایک بار پھر بدل گیا ہے، طالبان دارلحکومت میں داخل ہوگئے ہیں۔طالبان رہنما ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان کو افغان فورسز کی خالی کی گئی پوسٹوں پر قبضہ کرنے کا کہا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کابل کے کچھ علاقوں میں داخلے سے افغان شہری خوف زدہ نہ ہوں۔
اس سے پہلے امریکی سفارت خانے سے عملے کو نکالنے کا آپریشن جاری رہا، امریکی شہریوں کو شینوک ہیلی کاپٹرز میں ایئرپورٹ منتقل کیا گیا۔شہریوں کے ہجوم کی وجہ سے ایئرپورٹ کو پہلے عارضی طور پر بند کیا گیا، تاہم بعد میں طالبان نے ایئرپورٹ آپریشن جاری رکھنے کی منظوری دے دی۔طالبان نے بگرام اور کابل کے قریب پُل چرخی جیل کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے۔
ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے، یقین دلاتے ہیں کہ افغان شہریوں کی جان و مال محفوظ ہے۔اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کے بعد سوال اٹھا کہ اقتدار کی پُرامن منتقلی کون یقینی بنائے گا؟تاہم سابق صدر حامد کرزئی نے کہ اشرف غنی کے بعد افراتفری اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے تین رکنی رابطہ کونسل بنادی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button