بین الاقوامی خبریں

صدر پوٹن پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں: جو بائیڈن

واشنگٹن، 26جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی صدر کے مطابق یوکرائن پر روسی حملہ ‘دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا’ واقعہ ہو گا، جس کے فوری طور بہت سنگین نتائج بر آمد ہوں گے۔ روس کی جانب سے گیس کی سپلائی روکنے کی صورت میں متبادل نظم پر بھی غور ہو رہا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ یوکرائن پر روسی حملے کی صورت میں واشنگٹن روسی صدر ولادمیر پوٹن پر بھی ذاتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا حملہ ہونے کی صورت میں وہ خود صدر پوٹن پر بھی پابندیاں عائد کرنے کے امکانات دیکھتے ہیں؟ تو جو بائیڈن نے جواب دیا کہ ،ہاں، میں اسے دیکھوں گا۔ان کا یہ تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرائن کی سرحد کے آس پاس موجود روسی جنگی دستوں نے اپنی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

تاہم روس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرائن پرحملہ نہیں کرے گا۔صدر جو بائیڈن نے کہا کہ یوکرائن پر روسی در اندازی دوسری عالمی جنگ کے بعدسب سے بڑا حملہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ دنیا کو بدل کر رکھ دے گا۔ پیر کے روز پنٹاگون نے کہا تھا کہ یوکرائن کشیدگی کے پیش نظر ساڑھے آٹھ ہزار امریکی فوجیوں کو سخت الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

بائیڈن کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحادیوں کے لیے امریکا کی ایک مقدس ذمہ داری ہے اور اگر روس کی جانب سے فوجیوں کے اجتماع کا سلسلہ جاری رہا یا پھر اس کی جانب سے کوئی اقدام کیا گیا، تو ان فوجیوں کو ضرورت کے مطابق تعینات کیا جا سکتا ہے۔

تاہم بائیڈن نے نامہ نگاروں پر یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کا یوکرائن کے اندر امریکی فوجیوں کو بھیجنے کاکوئی ارادہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پوٹن جو بھی اقدام کریں گے اس کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہوں گے تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ کیا اقدامات کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ اگرجنگ کی صورت میں روس یورپی ممالک کو اپنی گیس کی سپلائی اور فراہمی منقطع کر دیتا ہے، تو اس صورت میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دیگر ممالک سے بھی بات چیت جاری ہے۔

حالانکہ اس سلسلے میں ابھی تک کسی خاص ملک یا توانائی کمپنی کا نام سامنے نہیں آیا تاہم بائیڈن انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہے کہ ہر صورت میں یورپی ممالک کو گیس کی سپلائی جاری رہے۔ اس سلسلے میں جو ممالک یا کمپنیاں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) فراہم کرتی ہیں ان سے بات چیت جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button