سرد موسم کی بیماریوں سے بچاؤ
سردیوں میں لوگ زیادہ مایوس ہوجاتے ہیں اور مایوسی میں درد بھی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ ورزش سمیت دیگر ایسے مشاغل جن سے مایوسی دور ہو مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ہاتھوں کو دھوتے رہنے اور گھر اور استعمال کی دیگر اشیاء کو صاف ستھرا رکھنے سے، جراثیم کو کسی بیمار شخص سے گھر کے دوسرے صحتمند فرد تک منتقل ہونے سے روک کر انھیں نزلہ زکام سے بچایا جا سکتا ہے۔موسم سرد ہونے پر لوگوں کے کھانے پینے اور پہننے کے معمولات میں چھوٹی بڑی کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ کچھ بیماریاں بھی لوگوں کو سردیوں میں زیادہ تنگ کر سکتی ہیں۔ فیملی میڈیسن کے ماہرین ہر عمر کے مرد وخواتین کی تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔
عام طور پر نزلہ زکام، گلا خراب ہونا، دمہ، جوڑوں میں درد، ہاتھ پاؤں خاص طور پر انگلیاں ٹھنڈی ہو جانا، جِلد خشک ہوجانا، فلو کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ، ہونٹوں پہ اور ان کے گرد چھالے اور الٹیاں سرد موسم کی عام بیماریاں ہیں۔برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کی طرف سے ’سردیوں کی بیماریوں اور احتیاطی تدابیر‘ سے متعلق شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ، ہاتھوں کو دھوتے رہنے اور گھر اور استعمال کی دیگر چیزوں کو صاف ستھرا رکھنے سے جراثیم کو کسی بیمار شخص سے گھر کے دوسرے صحتمند فرد تک پہنچنے سے روک کر انھیں نزلہ زکام سے بچایا جا سکتا ہے۔ پھر یہ کہ جسے نزلہ زکام ہو، اُنھیں چاہیئے کہ جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کپڑے کے رومال کی بجائے ٹشو پیپر استعمال کر کے پھینک دینا چاہئے۔
سردیوں میں، عام طور پر، کسی وائرس کے باعث گلا خراب ہو جاتا ہے۔ لیکن، کچھ شواہد ہیں کہ گرم کمرے سے باہر بہت ٹھنڈے ماحول میں جانے سے بھی حلق متاثر ہو سکتا ہے۔ اُن کا مشورہ تھا کہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چھوٹا چمچ نمک ملا کر غرارے کرنے سے کچھ آرام آتا ہے۔
سرد موسم کی بیماریاں اور بچنے کی آسان تدابیر پر اس مطالعاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ دمے کی صورت میں، ٹھنڈی ہوا میں سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے، اور سانس لیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے۔ ایسے میں دمے کے مریضوں کو سردیوں میں خاص احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ انھیں زیادہ سردی ہو تو گھر ہی پر رہنا چاہئے، باہر جانا انتہائی ضروری ہو تو ناک اور منہ کو اسکارف سے ڈھانپ لینا چاہئے اور اگر وہ دمے کیلئے کوئی دوا یا پمپ استعمال کرتے ہیں، تو اِن کا استعمال جاری رکھنا چاہئے۔مزید کچھ لوگ سردیوں میں جوڑوں میں درد اور اکڑن بڑھ جانے کی شکایت کرتے ہیں، جسے صرف سردی سے بچ کر دور کیا جاسکتا ہے۔
سردیوں میں لوگ زیادہ مایوس ہوجاتے ہیں اور مایوسی میں درد بھی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ ورزش سمیت دیگر ایسے مشاغل جن سے مایوسی دور ہو مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تھکن دور کرنے اور خوش رہنے سے سردیوں میں ہونٹوں اور ان کے گرد ہونے والے چھالوں سے بچا جا سکتا ہے، ہاتھوں اور پاؤں، خاص طور پر انگلیوں کے ٹھنڈے ہو جانے کی شکایت بھی سردیوں میں عام ہوتی ہے؛ اور اس سے بچنے کیلئے ویسے تو دوائیں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہیں، لیکن دوران خون میں کمی کی وجہ سے ہونے والی اس شکایت سے بچنے کیلئے گرم دستانے اور موزے مدد گار ثابت ہوتے ہیں جلد کو خشکی سے بچانے کیلئے، زیادہ گرم پانی سے نہیں نہانا چاہئے اور دوسرے اوقات کے ساتھ ساتھ نہانے کے بعد جِلد کو نمی بخشنے والی کریم لگانی چاہئے۔
الٹیاں ہونے کی صورت میں جسم سے خارج ہو جانے والے پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے کے لئے الیکٹرال کا استعمال کار آمد ہوتا ہے۔ سرد موسم میں خون کی گردش میں دل کو زیادہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ چنانچہ دل کے مریضوں کو سردیوں میں دل کے دورے سے بچنے کے لئے اپنا جسم گرم رکھنے کے لئے گرم کپڑوں کا استعمال کرنے اور گرم پانی کی بوتل سے بستر کو گرم رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔فلو خاص طور پر بزرگوں اور طویل مدتی بیماریوں، جیسا کہ شوگر اور گردے کے امراض میں مبتلا لوگوں میں، جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے، فلو سے بچاؤ کی ویکسین مددگار ثابت ہوتی ہے۔



