پیگاسس معاملے پر وزیر داخلہ امیت شاہ جواب دیں، وزیر اعظم بھی موجود رہیں: پارلیمنٹ میں ہنگامے پرملکارجن کھڑگے نے کہا
نئی دہلی،30؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پارلیمنٹ کے #مانسون سیشن میں #پیگاسس #جاسوسی معاملے پر ہنگامہ جاری ہے۔ ایوان کی کارروائی بھی آسانی سے نہیں چل رہی ہے۔ اس پورے معاملے پر راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف #ملکارجن کھرگے نے کہا کہ حکومت کو #پارلیمنٹ میں تعطل کو ختم کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے، لیکن حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہے۔
ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ سب سے پہلے پیگاسس سپائی ویئر #فون #ہیک کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے اور وزیر داخلہ جواب دیں اور وزیر اعظم کو بھی موجود ہونا چاہیے۔
یو پی اے کے دور حکومت میں تین مرتبہ ضابطہ267 کے تحت مہنگائی اور دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مہنگائی 4.8.2010 کو انفلیشن پر بحث ہوئی ۔ 07.12.2012 کو پرچون میں ایف ڈی آئی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کسانوں کی خودکشی کا معاملہ 22.04.2013 کو زیر بحث آیا۔ مسئلہ کشمیر 10.8.2016 میں زیر بحث آیا۔ 16.11.2016 کو نوٹ بندی پر بحث ہوئی۔ ایسی کئی مثالیں ہیں جب ضابطہ267 کے تحت بحث ہوئی۔
حکومت کو بحث کرنی چاہیے۔واضح رہے کہ آج بھی پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر رہی ۔ بار بار #ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان ملتوی کرنا پڑا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں تعطل تب ہی ختم ہو گا جب حکومت پیگاسس جاسوسی کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ہو گی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ہنگامے پر وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ہنگامہ کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے ہمیشہ کہا ہے کہ چاہے وہ کسانوں کا مسئلہ ہو یا کوئی اور موضوع، حکومت پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔ حکومت بحث چاہتی ہے لیکن اپوزیشن بحث کے لیے تیار نہیں۔ #اپوزیشن کو بحث کے لیے تیار رہنا چاہیے۔



