شہزادی کے تین سوالات – ایک حیرت انگیز داستان
بادشاہ کا امتحان – سوالات کے راز کا انکشاف
ایک بادشاہ اپنی اکلوتی بیٹی شہزادی ثنا کی شادی کے لیے فکر مند تھا، کیونکہ شہزادی نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص اس کے تین سوالات کے درست جوابات دے گا، وہی اس سے شادی کرے گی۔ کئی شہزادے قسمت آزما چکے تھے، مگر سب ناکام لوٹے۔ ایسے میں ایک نوجوان طالب علم، اعظم، اپنی قسمت آزمانے آیا۔ اس کے والد ایک مشہور استاد تھے جن کے شاگردوں میں ملک فارس کا وزیراعظم، بڑے درباری اور قاضی شامل تھے۔
شہزادی کے پہلے دو سوالات اور اعظم کے ذہین جوابات
محل میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ شہزادی نے پہلا سوال کیا اور اپنی شہادت کی انگلی بلند کی۔ اعظم نے توقف کے بعد دو انگلیاں بلند کیں۔ شہزادی مسکرا دی، اور دربار "شاباش!” کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ دوسرے سوال میں شہزادی نے ہوا میں تلوار چلائی، جس پر اعظم نے اپنی جیب سے قلم نکال کر فضا میں بلند کر دیا۔ یہ دیکھ کر ملکہ عالیہ خوش ہوئیں اور اعلان کیا کہ نوجوان کامیابی سے دوسرا مرحلہ بھی طے کر چکا ہے۔
تیسرا سوال – فیصلہ کن لمحہ
تیسرے سوال میں شہزادی نے تیزی سے سیڑھیاں اُتریں اور چڑھیں، پھر اپنی نشست پر بیٹھ گئی۔ دربار میں سناٹا چھا گیا۔ اعظم کچھ لمحے خاموش رہا، پھر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر شہزادی کی طرف دیکھا۔ شہزادی شرما کر محل کے اندر چلی گئی، اور دربار میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
بادشاہ کا امتحان – سوالات کے راز کا انکشاف
بادشاہ نے اعظم سے پوچھا کہ اس نے سوالوں کے کیا مطلب سمجھے تھے۔ اعظم نے جواب دیا:
-
پہلی انگلی بلند کر کے شہزادی نے پوچھا کہ کیا میں اللہ کو ایک مانتا ہوں؟ میں نے دو انگلیاں بلند کر کے جواب دیا کہ میرا ایمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اٹل ہے۔
-
شہزادی نے تلوار چلائی، تو میں نے قلم بلند کر کے جواب دیا کہ علم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہوتی ہے۔
-
شہزادی نے سیڑھیاں چڑھ کر پوچھا کہ میرے جسم کی کون سی چیز نہیں تھکی؟ میں نے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا کہ دل ہمیشہ دھڑکتا ہے اور کبھی نہیں تھکتا۔
علم کی طاقت – خوشی کا اعلان
بادشاہ نے اعظم کو گلے لگایا اور اعلان کیا کہ اس کی بیٹی کا حق دار وہی ہے جو علم رکھتا ہو، کیونکہ علم ایک ایسی دولت ہے جو نہ چرائی جا سکتی ہے اور نہ کم ہوتی ہے۔ یوں شہزادی ثنا اور اعظم کی شادی طے ہو گئی، اور محل مبارک باد کی آوازوں سے گونج اٹھا۔



