
مایاوتی نے کہا – حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے
لکھنو،19؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاںملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں یوگی حکومت نے 4.5 سال مکمل کرلیے۔ اس موقع پر اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور حکومت کے کام کاج پر ایک رپورٹ پیش کی۔ حکومت کے کاموں پرانہوں نے کہا کہ 4.5 سالوں میں گڈ گورننس کی حکومت چلانے کی پوری کوشش کی ہے۔ ہم نے ریاست کے ہر طبقہ کی ترقی کے لیے کام کیا ہے۔
گزشتہ4.5 سالوں میں ریاست میں ایک بھی فساد نہیں ہوا۔ ہم نے پوری ریاست میں بہت اچھا کام کیا ہے۔اپوزیشن نے حکومت کے اس رپورٹ کارڈ پر حملہ کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے یوگی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے 4.5 سال مکمل ہونے پر پیش کئے گئے رپورٹ کارڈ پر سوال اٹھاتے ہوئے یوگی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ پرینکا گاندھی نے یوگی حکومت کے رپورٹ کارڈ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یوپی حکومت کو 4.5 سال پرعوام کے سوالوں کے جواب دینا چاہیے ، لیکن نہیں دیا۔ صرف جھوٹی بات پیش کی گئیں۔
اس کے علاوہ اپنے ٹویٹ میں یوگی حکومت کی کوتاہیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھوں خالی آسامیوں پر نوکریاں دینے اور بھرتی کو لٹکانے ، گنا، گندم، دھان، آلو کی قیمت دینے ،کسان کو بجلی کی قیمت کم کرنے اور مہنگائی کو روکنے میں ناکام رہی ۔
اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بہوجن سماج وادی پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی یوگی حکومت کی 4.5 تکمیل اور ان کے پیش کردہ رپورٹ کارڈ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یو پی بی جے پی حکومت کی طرف سے 4.5 سال کی تبدیلی کے اشتہارات اور دعوے زمینی حقیقت سے دور ہیں۔
ان کے قول و فعل میں تضاد ہونے کی وجہ سے عوام کی حالت زار خاص طور پر بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری، مہنگائی وغیرہ کی وجہ سے بہت خراب ہے۔



