لوک سبھا میں وندے ماترم بحث: پرینکا گاندھی کا حکومت پر انتخابی فائدہ اٹھانے کا الزام
"آپ انتخابات کے لیے ہیں, ہم ملک کے لیے ہیں
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پارلیمنٹ میں قومی گیت ’وندے ماترم‘ کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والی بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت لفظی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ بحث کا محور ترانے کی تاریخ، اس کی منظوری کے واقعات اور ماضی میں اٹھنے والے اختلافات تھے۔
لوک سبھا میں وندے ماترم پر ہونے والی بحث نے آج سیاسی ماحول کو غیر معمولی طور پر گرم کر دیا جب کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی وادرا نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی۔ پرینکا نے کہا کہ موجودہ بحث کا مقصد ملک کے حقیقی مسائل سے عوام کو ہٹانا ہے اور یہ کہ وندے ماترم کا معاملہ آنے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے جوڑ کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بحث کی دو بڑی وجوہات ہیں, ایک یہ کہ بنگال انتخابات قریب ہیں اور دوسری, وزیر اعظم اپنی موجودگی کو نمایاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پرینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ آزادی کی جدوجہد میں شامل رہنماؤں پر نیا نشانہ سادھ کر حکومت عوام کو اصل مسائل سے دور لے جانا چاہتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ انتخابات کے لیے ہیں, ہم ملک کے لیے ہیں, چاہے کتنے ہی انتخابات ہم ہار جائیں, ہم آپ کی سوچ کا مقابلہ کرتے رہیں گے اور آپ ہمیں روک نہیں سکتے۔”
وزیر اعظم مودی نے جتنے سال وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر گزارے ہیں، پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی کی جدوجہد میں تقریباً اتنے ہی سال جیل میں گزارے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر نہرو نے اداروں کی بنیاد نہ رکھی ہوتی تو آج ملک ISRO کی کامیابیوں، DRDO کی ترقی، IITs و IIMs کی تعلیم، یا AIIMS جیسے طبی اداروں سے محروم ہوتا۔
اپنی تقریر میں پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ نہرو پر کیے گئے اعتراضات اور الزامات کی ایک فہرست تیار کریں تاکہ ایک ہی مرتبہ اس موضوع پر جامع بحث ہو سکے۔انہوں نے کہا:”چاہے 999 ہوں یا 9,999، سب الزامات ایک جگہ لکھ لیجیے، ہم جتنی دیر چاہیں اس پر بحث کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن اس پارلیمنٹ کا قیمتی وقت عوامی مسائل جیسے بے روزگاری اور مہنگائی کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔”
वंदे मातरम् की क्रोनोलॉजी समझिए 👇
🔹 1875 में बंकिम चंद्र चट्टोपाध्याय जी ने इस गीत के पहले दो अंतरे लिखे, जो आज हमारा राष्ट्रगीत है
🔹 1882 में 7 साल बाद बंकिम चंद्र चट्टोपाध्याय जी का आनंदमठ उपन्यास प्रकाशित हुआ और इसमें यही गीत प्रकाशित किया और उसमें 4 अंतरे जोड़ दिए गए… pic.twitter.com/2klamt67ko
— Congress (@INCIndia) December 8, 2025
بحث کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کانگریس پر سخت حملہ کیا اور الزام لگایا کہ پارٹی نے آزادی کی تحریک کے دوران اور ملک کی آزادی کے بعد بھی قومی گیت وندے ماترم پر بار بار سمجھوتا کیا۔1905 میں بنگال کی تقسیم کے دوران وندے ماترم نے عوام کو یکجہتی کا پیغام دیا اور یہ گیت آزادی, خود انحصاری اور قومی وقار کی علامت بن گیا۔ مودی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کانگریس نے مسلم لیگ کو خوش کرنے کے لیے گیت کے حصوں کو الگ کیا جس سے آزادی کی تحریک کی روح مجروح ہوئی۔ وزیر اعظم کے مطابق وندے ماترم محض سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ اس نے ہر دور میں ملک کی تاریخی اور تہذیبی بنیادوں کو مضبوط رکھا۔
کانگریس کے ایم پی گورو گگوئی نے وزیر اعظم پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر تقریر میں تاریخ کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر بحث کو سیاسی رنگ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گگوئی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے وندے ماترم بحث کے دوران نہرو کا نام 14 بار اور کانگریس کا 50 بار لیا جبکہ آپریشن سندور اور آئین کی 75 ویں سالگرہ کی بحث میں بھی یہی رویہ دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم قومی مباحث کو عوامی فلاح کے بجائے سیاسی فائدے کے زاویے سے پیش کرتے ہیں جس سے بحث کا مقصد تبدیل ہو جاتا ہے۔
دس گھنٹے طویل اس بحث نے صاف کیا کہ وندے ماترم کا موضوع محض ثقافتی یا تاریخی بحث نہیں رہا بلکہ مکمل طور پر سیاسی میدان کا حصہ بن چکا ہے۔ حکومت جہاں کانگریس کو قومی گیت پر سمجھوتے کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے, وہیں اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی اس مسئلے کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ بحث کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ وندے ماترم کی سیاست آنے والے وقت میں بھی سیاسی بیانیے کا اہم حصہ بنی رہے گی۔



