
نئی دہلی،6اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے تہاڑ جیل کے ان عہدیداروں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جنہوں نے یونٹیک کے سابق پروموٹرز کے ساتھ مل کر انہیں جیل میں دفاتر کھولنے میں سہولت فراہم کی۔ سنجے چندر اور اجے چندر نے تہاڑ جیل میں قیام کے دوران ایک خفیہ زیرزمین دفتر کھولا تھا جہاں سے لین دین سمیت کئی کام سنبھالے جا رہے تھے۔سپریم کورٹ نے یہ حکم دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ کی سیل بند رپورٹ کی بنیاد پر دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ جو بھی چندر اور تہاڑ جیل حکام کی ملی بھگت میں ملوث ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے تہاڑ جیل کے ان افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا، جن کے خلاف پولیس کمشنر استھانہ کی رپورٹ کی بنیاد پر مقدمات درج کئے گئے۔ اس کے علاوہ عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا کہ وہ قیدیوں کے انتظام سے متعلق راکیش استھانہ کی رپورٹ میں دی گئی صلاحات پر غور کرے۔
اس سال اگست میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے سپریم کورٹ میں یونٹیک کے سابق ڈائریکٹرز کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا۔ ایجنسی نے کہا تھا کہ اس نے تہاڑ جیل میں ایک خفیہ زیرزمین دفتر کا سراغ لگایا ہے جسے رمیش چندر چلا رہا تھا۔
تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کو سننے کے بعد سپریم کورٹ نے یونٹیک کے سابق پروموٹرز سنجے چندر اور اجے چندر کو دہلی کی تہاڑ جیل سے آرتھر روڈ جیل اور ممبئی کی تالوجا جیل میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔
ساتھ ہی عدالت نے دہلی پولیس کمشنر سے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں پیچیدگی سے متعلق تہاڑ جیل کے عہدیداروں کے طرز عمل کی فوری طور پر ذاتی تحقیقات شروع کرے۔



