سوشل میڈیا پر متنازعہ پوسٹ کرنے والے پروفیسر علی خان کو سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی
قابل اعتراض ریمارکس کے معاملے میں سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی
نئی دہلی، 21 مئی(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہریانہ کی سونی پت کی اشوکا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر علی خان محمود آباد کو آپریشن سندور اور بھارتی فوج کی خواتین افسران کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ پر قابل اعتراض ریمارکس کے معاملے میں سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی ہے۔
عدالت عالیہ کی بنچ جسٹس سوریا کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ نے علی خان کو عبوری ضمانت دی۔ کیس کی دلیل سینئر وکیل کپل سبل نے دی، جنہوں نے علی خان کی فیس بک پوسٹ بھی عدالت کے سامنے پڑھی۔
جسٹس سوریا کانت نے اس موقع پر کہا کہ ہر شخص کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اس وقت ملک کی موجودہ صورتحال میں ایسی فرقہ وارانہ بات کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ بیان مقبولیت حاصل کرنے کے لیے دیا گیا؟ کیا یہ ایسا وقت تھا؟سپریم کورٹ نے علی خان کو ہدایت دی کہ وہ اپنی بات دوسروں کو تکلیف پہنچائے بغیر سادہ اور قابل احترام زبان میں کہیں۔
ہریانہ حکومت کے وکیل اے ایس جی ایس وی راجو نے کہا کہ علی خان کو پہلے ہائی کورٹ میں جانا چاہیے تھا، مگر وہ سیدھا سپریم کورٹ آئے۔کپل سبل نے کہا کہ علی خان کی اہلیہ حاملہ ہیں اور وہ جیل میں قید ہیں۔عدالت نے ہریانہ حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور کیس کی تحقیقات کے لیے 3 آئی پی ایس افسران کی ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔عدالت نے علی خان کو حکم دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر مزید متنازعہ پوسٹ نہ کریں اور سونی پت کی عدالت میں اپنا پاسپورٹ جمع کرائیں۔



