سرورقگوشہ خواتین و اطفال

طب نبوی کی افادیت،مباشرت کے ممنوعہ ایام -ڈاکٹر آفتاب احمد شاہ

خالق کائنات نے مرد اور عورت کے اندر ایک دوسرے کی صحبت سے سکون حاصل کرنے اور لطف اندوز ہونے کی جو خواہش رکھی ہے

خالق کائنات نے مرد اور عورت کے اندر ایک دوسرے کی صحبت سے سکون حاصل کرنے اور لطف اندوز ہونے کی جو خواہش رکھی ہے اس کو پورا کرنے کے لئے شرعِ اسلامی نے نکاح کا طریقہ بتایا ہے اور اسی لئے نکاح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت اہم سنت ہے اس کے ذریعہ انسان زنا جیسے مذموم گناہ سے بچتا ہے یہی وجہ ہے کہ نکاح کو نصف الایمان کہا گیا ہے، نکاح کے ذریعہ جہاں انسان حرام کاری سے بچتا ہے، وہاں اس کو بدن کی صحت، ذہنی سکون، محبت اور ایک دوسرے کی سچی ہمدردی اور راز داری وغیرہ مختلف قسم کے فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

نکاح و رخصتی کے بعد جب مرد وعورت تنہائی میں یکجا ہوتے ہیں تو مرد کے اندر بالعموم مباشرت کا جذبہ بڑی شدت کے ساتھ ابھرتا ہے اور اس وقت بعض مرد بڑی بے صبری کے ساتھ عورت پر ٹوٹ پڑتے ہیں بسا اوقات بیوی بحالت حیض ہوتی ہے تو اس درندگی سے بہت تکلیف ہوتی ہے اور وہ منع بھی کرتی ہے مگر احکام الٰہی کی ناواقفیت اور اس کے نقصانات کا علم نہ ہونے کے باعث عورت کے انکار کا لحاظ نہ کرتے ہوئے صحبت کرلیتے ہیں جب کہ قرآن عظیم نے صاف الفاظ میں حالت حیض میں صحبت کرنے سے روکا ہے اور حرام قرار دیا ہے۔

وَاعْتَزِلُوْا النِّسَآئَ فِیْ المَحِیْضِ (سورہ بقرہ) ترجمہ:

حالتِ حیض میں عورت سے الگ تھلگ رہو۔ قرآن کریم کے اس حکم کے بارے میں جدید علم طب نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ حیض سے خارج شدہ خون میں ایک قسم کا زہریلا مادہ ہوتا ہے جو اگر جسم کے اندر رہ جائے تو صحت کے لئے مضر ہوتا ہے، اس طرح حالتِ حیض میں جماع سے اجتناب کرنے کے راز سے پردہ ہٹادیا ہے، دوران حیض عورت کے خالص اعضاء خون حیض کے مجتمع ہونے سے سکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور اعصاب داخلی غدود کے سیلان کے باعث اضطراب میں ہوتے ہیں، اس لئے حالت حیض میں جنسی اختلاط مضرت اور کبھی حیض کی رکاوٹ کا سبب بن جاتا ہے اور بعد میں مزید خرابیاں سوزشِ رحم وغیرہ پیدا ہوجاتی ہیں اور موجوہ زمانے میں ایڈز نام کی انتہائی خطرناک بیماری جو معرض وجود میں آئی ہے وہ بھی اسی قسم کی بدعنوانیوں کا نتیجہ ہے۔

قربان جائے شریعتِ محمدی پر کہ جس نے ہم کو احکامِ الٰہی کے ذریعہ ایسی مذموم حرکات سے روکا جن سے فریقین کو طرح طرح کی بیماریاں اور امراضِ خبیثہ سوزاک وآتشک وغیرہ لاحق ہوجاتے ہیں جن کا خمیازہ تمام عمر بھگتنا پڑتا ہے بلکہ اولاد پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اولاد مجذوم یعنی کوڑھی ہوجاتی ہے۔

بعض فقہاء نے اس حکم کی خلاف وزری پر حدیث کے مطابق کفارہ بھی رکھا ہے کہ حس شخص سے غلبۂ شہوت کی بنا پر حالت حیض میں جماع کا گناہ سر زد ہوجائے تو اسے ایک دینار یا نصف دینار بطور کفارہ صدقہ کرنا چاہئے۔ (اصحاب السنن وطبرانی)

حضرت امام ابوحنیفہ وامام مالک وشافعی رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک کفارہ ادا کرنا واجب نہیں البتہ استغفار واجب ہے۔ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ کفارہ ادا کرے اگر ایک دینار ادا نہ کرسکے تو نصف دینار ادا کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button