ووٹرز سے وعدے، دوسری مدتِ صدارت میں ٹرمپ کی پالیسی کیا ہو گی؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران ووٹرز کے ساتھ متعدد وعدے کیے
واشنگٹن،8نومبر (ایجنسیز) امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران ووٹرز کے ساتھ متعدد وعدے کیے جو وہ اپنی دوسری مدت میں پورا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سابق صدر اور اب ایک مرتبہ پھر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ ان مجوزہ منصوبوں کی تفصیل میں کبھی نہیں گئے لیکن ٹیکسوں، قواعد و ضوابط، ثقاقتی مسائل اور تجارت سے متعلق زبانی یا تحریری طور پر پالیسی بیانات جاری کرتے آئے ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے پر شہری حقوق پر موجودہ ڈیموکریٹ حکومت کے اقدامات کو پیچھے دھکیلنا اور صدارتی اختیارات کا دائرہ مزید وسیع کرنا بھی شامل ہے۔
امیگریشن کے معاملے پر ڈونلد ٹرمپ نے 2016 کی انتخابی مہم کے دوران ’دیوار کھڑی کرنے‘ کا نعرہ لگایا تھا اور اس کے تحت تاریخ کا سب سے بڑا جلاوطنی کا پروگرام شروع ہوا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ مہم کے دوران غیرقانونی تارکین وطن کو روکنے کی کوشش میں نیشنل گارڈز کی خدمات حاصل کرنے اور اندرونی پالیسی کو مضبوط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس حوالے زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ پروگرام کے تحت صرف غیرقانونی طور پر رہنے والوں کو نشانہ بنایا جائے۔
انہوں نے امریکہ میں آئندہ داخل ہونے والوں کے لیے صرف نظریاتی بیانات دیے اور پیدائش پر شہریت کا حق ختم کرنے کی بات کی جس کے لیے دراصل آئینی ترمیم درکار ہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے پہلی مدت کی پالیسی ’میکسیکو میں رہیں‘ کو ایک مرتبہ پھر بحال کرنے کا کہا ہے۔اس پالیسی کے تحت صحت کو بنیاد بناتے ہوئے تارکین وطن کو امریکہ داخل ہونے سے روکا گیا اور چند مسلمان ممالک سے آنے والوں پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسقاط حمل کے معاملے پر نرم مو?قف اپنایا اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر خواتین کے اس حق پر پابندی عائد کرنے کے لیے کسی قسم کی قانون سازی ہوئی تو وہ صدارتی اختیار استعمال کرتے ہوئے اسے ویٹو کر دیں گے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں سپریم کورٹ کے تین ججوں نے اسقاط حمل پر اپنے ہی 50 سال پرانے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خواتین سے ان کا یہ حق چھین لیا تھا۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے اصرار پر ریپبلیکن پارٹی نے کئی دہایوں میں پہلی مرتبہ اپنی پلیٹ فارم سے ملک بھر میں اسقاط حمل پر پابندی عائدکرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔لیکن اس کے باوجود یہ واضح نہیں کہ بائیڈن انتظامیہ کی طرح ان کی حکومت بھی اسقاط حمل کی گولیوں تک رسائی کو محدود کرنے سے متعلق قانونی چیلنجز کا اتنے ہی جارحانہ انداز میں دفاع کرے گی۔انسداد اسقاط حمل کے حامی پہلے ہی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی منظور کردہ ادویات کے خلاگ قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اس بات کا بھی انتہائی کم امکان ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، صدر بائیڈن کی جانب سے جاری ہدایات پر بھی عمل درآمد کروائیں گے جن کے تحت ہسپتالوں پر لازم تھا کہ وہ ایمرجنسی کی حالت میں خاتون کا اسقاط حمل کریں گے اور ان ریاستوں میں بھی جہاں اسقاط حمل پر پابندی عائد ہے۔ٹرمپ کی ٹیکس پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جھکاؤ کارپوریشن اور دولت مند امریکیوں کی طرف زیادہ ہے۔ اس کی وجہ ان کا یہ بیان ہے کہ چند تبدیلیوں کے ساتھ 2017 کی ٹیکس پالیسی کا دائرہ وسیع کیا جائے گا جس میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کم کر کے 21 سے 15 فیصد لانا شامل ہے۔
انہوں نے فوسل فیول یعنی حیاتیاتی ایندھن کی پیداوار میں حائل رکاوٹوں کو دور کر کے گھروں کے یوٹیلیٹی بلوں میں فوری کمی کا وعدہ کیا ہے اور تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے پورے ملک کی زمین تک رسائی دینے کا ہے اگرچہ امریکی توانائی کی پیداوار پہلے ہی ریکارڈ بلند سطح پر ہے۔سابق صدر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ’ماحولیاتی انتہا پسندوں کی جانب سے غیرسنجیدہ قانون چارہ جوئی‘ کو بھی ختم کریں گے۔



