قومی خبریں

جسم فروشی ایک پیشہ، تحفظ اور وقار کا پاس رکھا جائے: عدالت عظمیٰ

نئی دہلی، 26۔مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں جسم فروشی کو بھی ایک ’پیشہ‘ تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسم فروشی کرنے والے بھی قانون کے تحت وقار اور مساوی تحفظ کے حقدار ہیں۔ عدالت نے اس سلسلے میں حکام کو کئی ہدایات جاری کی ہیں اور حکم دیا ہے کہ جو بھی بالغ افراد اس پیشے سے وابستہ ہیں ان کے کام میں پولیس کو نہ تو کسی بیجا مداخلت کی اجازت ہونی چاہیے اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی مجرمانہ کاروائی ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پولیس فورسز کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سیکس ورکرز کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آئیں اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی بد زبانی یا جسمانی بدسلوکی نہ کریں۔ عدالت نے کہا کہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پیشے کو آپ مانتے ہیں یا نہیں، اس ملک میں ہر فرد کو آئین کی دفعہ 21 کے تحت با وقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

سیکس ورکرز بھی قانون کے تحت مساوی تحفظ کے حقدار ہیں۔

تین ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں فوجداری قانون کا اطلاق تمام صورتوں میں عمر اور رضامندی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ججوں کا کہنا تھاکہ جب یہ واضح ہو کہ جنسی کارکن ایک بالغ ہے اور رضامندی سے یہ کام کر رہا ہے، تو پھر پولیس کو اس میں مداخلت کرنے یا اس کے خلاف کسی قسم کی مجرمانہ کاروائی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی سیکس ورکر جنسی حملے کا شکار ہو جائے تو اسے بھی قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے اور فوری طور پر ایسے متاثرین کو طبی امداد سمیت تمام دیگر سہولیات بھی فراہم کی جانی چاہئے۔

کورٹ نے کہا کہ دیکھا یہ گیا ہے کہ سیکس ورکرز کے ساتھ اکثر پولیس کا رویہ پر تشدد اور وحشیانہ ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ایسا طبقہ ہے جس کے حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جسم فروشوں کے حقوق کے تئیں حساس ہونا چاہیے۔

مزید برآں آئین میں جو حقوق تمام شہریوں کے لیے ہیں، انہیں بھی ایسے تمام بنیادی انسانی حقوق اور دیگر حقوق حاصل ہونے چاہئے۔پولیس کو تمام سیکس ورکرز کے ساتھ وقار کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور ان کے ساتھ زبانی اور جسمانی طور پر بدسلوکی نہیں کرنی چاہیے۔ انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے اور نہ ہی انہیں کسی جنسی سرگرمی پر مجبور کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button