بین الاقوامی خبریںسرورق

کولمبیا یونیورسٹی کی عمارت پر قبضہ پرامن احتجاج کی مثال نہیں : صدر بائیڈن

غزہ جنگ پر احتجاج، کولمبیا یونیورسٹی میں طلبہ کی معطلی شروع

واشنگٹن، یکم مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) منگل کی صبح احتجاج کرنے والے طلبہ کولمبیا یونیورسٹی کے ہیملٹن ہال کی کھڑکیاں توڑ کر اندرداخل ہوگئے اور اس پر قبضہ کر لیا۔امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایک آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ صدر کا خیال ہے کہ کیمپس کی عمارت پر زبردستی قابض ہونا ایک بالکل غلط طریقہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ صدر بائیڈن کو مظاہرین کے جذبات کا احساس ہے، لیکن اس سے غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کی حمایت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ان کا کہنا تھا کہ صدر کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا بھر میں ہمارے قومی سلامتی کے مفادات کا خیال رکھیں اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ اُس خطے کے لیے ایسے فیصلے کریں جو ان کے مفادات کی حمایت کرتے ہوں۔

کربی نے احتجاجی طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہ احتجاج پرامن طریقے سے کرنا ہے۔ آپ کسی کو تکلیف نہیں دے سکتے اور آپ اپنے ساتھی طلبہ کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔کربی کا مزید کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس ان مظاہروں کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔مظاہرہ کرنے والے، جنہوں نے اپنے چہرے نقاب میں چھپائے ہوئے تھے، نیویارک کی آئیوی لیگ یونیورسٹی کے ہملٹن ہال کی کھڑکیاں توڑ کر اندر داخل ہوئے اور وہاں موجود دھاتی میزوں کو ڈھال بنا لیا۔

فلسطینیوں کے حق میں اسٹوڈنٹس کے مظاہروں کی شروعات کولمبیا یونیورسٹی سے ہی ہوئی تھی جس کے بعد یہ مظاہرے ملک بھر کی درجنوں یونیورسٹیوں میں پھیل چکا ہے۔یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم اکثر یہودی طلبہ کیمپس نہیں آ رہے اور انہوں نے انتظامیہ سے یہ کہتے ہوئے احتجاجی کیمپ ختم کرانے کا مطالبہ کیا ہے کہ اس سے یہود مخالف جذبات کو ہوا مل رہی ہے۔ جب کہ مظاہرے کرنے والے طلبہ کے لیڈر اس کی تردید کرتے ہیں۔

غزہ جنگ پر احتجاج، کولمبیا یونیورسٹی میں طلبہ کی معطلی شروع

نیویارک، یکم مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف فلسطین کی حمایت میں مظاہروں کے دوران یونیورسٹی آف ٹیکساس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ،جبکہ کولمبیا یونیورسٹی نے طلبہ کی معطلی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق غزہ جنگ کے نتیجے میں بڑھنے والی ہلاکتوں کی تعداد اور کلاس کے اختتامی دنوں کے ساتھ ہی ملک بھر میں کیمپس میں ایک ہزار طلبہ کی گرفتاریوں کی وجہ سے مظاہرین مشتعل ہیں۔”

امریکہ میں کالج انتظامیہ نے فلسطین کے حامی مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی کیمپوں کو ختم کر دیں۔احتجاجی مظاہرے یورپ تک بھی پھیل چکے ہیں،فرانسیسی پولیس نے فلسطینی حامی مظاہرین کے یونیورسٹی کے مرکزی میدان پر قبضہ کرنے کے بعد سوربون یونیورسٹی سے درجنوں طلبہ کو نکال دیا۔کینیڈین پریس کے مطابق کینیڈا میں یونیورسٹی آف اوٹاوا، مونٹریال کی میک گل یونیورسٹی اور وینکوور میں یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں طلبہ کے احتجاجی کیمپوں کا آغاز ہوا۔اٹارنی نے بتایا کہ آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں پیر کو کم از کم 40 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

مظاہرین کے ایک اور گروپ نے پولیس اور گرفتار افراد سے بھری ایک وین کو عمارتوں کے درمیان پھنسا دیا، جس سے ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا اور افسران کو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کالی مرچ کے سپرے اور فلیش بینگ ڈیوائسز کا استعمال کرنا پڑا۔سوشل میڈیا پر ریپبلکن گورنمنٹ گریگ ایبٹ نے ریاستی فوجیوں کی آمد کی ویڈیو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ کسی کیمپ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی سینکڑوں پولیس اہلکارون نے یونیورسٹی میں مظاہرین کو دھکیلتے ہوئے 50 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔پیر کو کولمبیا میں طلبہ نے اسکول کے مین ہٹن کیمپس میں تقریباً 120 احتجاجی کیمپوں کو چھوڑنے کے لیے دی جانے والی دوپہر دو بجے کی ڈیڈلائن کی مخالفت کی۔

فرانسیسی یونیورسٹی کو جنگ مخالف مظاہروں کی پاداش میں فنڈز روک لئے گئے

پیرس، یکم مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پیرس ریجن کی اتھارٹی نے ملک کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی سائنسز پو کی فنڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ فنڈنگ کی معطلی سے ایک نئے تنازعہ کو جنم ملا ہے۔ فنڈنگ معطلی کا فیصلہ غزہ جنگ کی مخالفت کرنے والوں کے مظاہروں کے بعد کیا گیا ہے۔دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے والری پیکریسی نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ سائنسز پو کی فنڈنگ اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کہ امن و سلامتی مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی ہے۔ فنڈنگ معطلی کا یہ فیصلہ تمام علاقائی فنڈنگز سے متعلق ہے۔پیکریسی کے ایک ٹیم ممبر نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ علاقائی تعاون کی مد میں پیرس کی یونیورسٹی کے لیے 2024 میں 1 ملین یورو شامل ہیں۔

سائنسز پو کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر جین باسیرس نے کہا کہ مجھے اس فیصلے پر افسوس ہے۔ تاہم منگل کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں باسیرس نے کہا کہ میں پیکریسی کے بیان کیے گئے مؤقف کی حمایت کرتا ہوں۔ نیز اسی مؤقف پر بات چیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔خیال رہے امریکی یونیورسٹیوں میں غزہ جنگ کی مخالفت میں ہونے والے مظاہروں نے جس طرح انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسی طرح سائنسز پو کے طلبہ نے بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ جبکہ کئی طلبہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ سے پیدا شدہ انسانی بحرانی پر کافی پریشان ہیں اور ان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button