سرورققومی خبریں

ہریانہ کے گروگرام میں کھلے مقامات پرنماز کے خلاف ایک بار پھر احتجاج، 30 افراد حراست میں

نئی دہلی،29؍اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی سے متصل ہریانہ کے گروگرام میں کھلی جگہ پرنماز کا معاملہ جمعہ کو بڑھتا جا رہا ہے۔ تاہم پولیس نے جمعہ کو 37 مقامات پر نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے لیکن کچھ ہندو تنظیمیں گزشتہ پانچ ہفتوں سے نماز کے دوران ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آج جیسے ہی نماز جمعہ کا وقت ہوا، ہندو تنظیم کے ارکان نماز کی جگہ پر پہنچے اور نعرے بازی شروع کردی۔

پولیس نے مجموعی طور پر 30 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔غور طلب ہے کہ اس سے قبل گزشتہ جمعہ کو اس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی تھی جب گروگرام کے ہی سیکٹر 12-اے میں ایک پرائیویٹ پراپرٹی میں نماز ادا کر رہے مسلمانوں پر ایک ہجوم نے حملہ کر دیا تھا، جس میں مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنان بھی شامل تھے۔

مقامی وکیل کلبھوشن بھاردواج بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے گزشتہ ہفتے سیکٹر 12-A میں نماز کی مخالفت کی تھی، جن کی پولیس والوں سے بحث ہوئی تھی۔ بی جے پی کے سابق لیڈر بھاردواج نے جامعہ ملیہ کے شوٹر کی نمائندگی کی تھی جسے گڑگاؤں پولیس نے فرقہ وارانہ تقریر کرنے پر گرفتار کیا تھا۔

پولیس کی یقین دہانی کے بعد ہی ہجوم منتشر ہوئی۔ اس طرح کے مظاہرے ہریانہ کے سیکٹر 47 میں گزشتہ چند ہفتوں سے ہو رہے ہیں، علاقے کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سماج دشمن عناصر یا روہنگیا پناہ گزین علاقے میں جرائم کرنے کی نیت سے ’نماز‘ کا استعمال کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے اے سی پی امن یادو کے حوالے سے کہا تھا کہ اس معاملے میں رہائشیوںکے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوئی ہے لیکن ابھی تک کوئی حل نہیں نکلا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button