بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ میں حماس کے خلاف عوامی احتجاج – جنگ کے خاتمے کا مطالبہ

غزہ کے شہریوں کا مطالبہ – جنگ بند کرو، امن دو

غزہ، 26 مارچ (اردو دنیا.اِن/ایجنسیز) – غزہ کی پٹی میں شجاعیہ محلے کے قبیلوں نے بدھ کی سہ پہر حماس کے خلاف احتجاج کی کال دی، یہ کہتے ہوئے کہ "خاموشی اب کوئی آپشن نہیں ہے۔” قبیلوں نے الزام لگایا کہ حماس کے رہنما عوام کو نظر انداز کر رہے ہیں اور غزہ کے عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔

خان یونس اور شمالی غزہ میں مظاہرے

غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں منگل کی رات مظاہرے پھوٹ پڑے، جہاں مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور حماس کے کنٹرول کو ختم کرنے کے نعرے لگائے۔ شمالی غزہ میں بیت لاہیہ اور جبالیہ کی سڑکوں پر ہزاروں فلسطینی نکل آئے، جو جنگ کے باعث تباہ حالی اور نقل مکانی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

"گو حماس گو” کے نعرے اور عوامی غصہ

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سینکڑوں فلسطینیوں کو "گو حماس گو” کے نعرے لگاتے دیکھا گیا، جو ایک غیر معمولی عوامی مخالفت کی علامت ہے۔ شمالی غزہ، جو 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران شدید تباہی کا شکار ہوا، اب ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، اور عوام میں حماس کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔

"جنگ بند کرو” – احتجاجی بینرز اور عوامی مطالبات

مظاہرین کے اٹھائے گئے بینرز میں "جنگ بند کرو” اور "نقل مکانی روکو” جیسے مطالبات درج تھے۔ عوامی غصے میں شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ احتجاج کسی منظم گروہ کی قیادت میں نہیں بلکہ بے ساختہ اور عوامی جذبات کے اظہار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

"میری روزی روٹی ختم ہو گئی” – ایک دکان دار کی بے بسی

ابو خالد ابو ریش، ایک 50 سالہ دکان دار، جس کی دکان بمباری میں تباہ ہو گئی، بے بسی سے کہتے ہیں:
"میرا سب کچھ ختم ہو گیا، گھر تباہ ہو گیا، بچے بے گھر ہو گئے، اور حماس اب بھی صبر کی تلقین کر رہی ہے جبکہ ان کے اپنے بچے محفوظ ہیں۔”

حماس کے لیے غیر معمولی چیلنج

مبصرین کے مطابق، یہ مظاہرے حماس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں، جو روایتی طور پر کسی بھی اختلافی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ فلسطینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حماس نے عوامی غصے کو نظر انداز کیا تو وہ مزید مشکلات اور سیاسی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

اہم حقائق:

  • 50,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • لاکھوں لوگ اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس لوٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

  • عوامی مظاہروں میں حماس کے خلاف نعرے اور مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button