بین الاقوامی خبریں

سعودی خواتین کو معاہدوں کے بغیر ملازمت پر رکھنے والے پبلک سروس کے دفاتر سیل

سعودیہ میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے سرمایہ کاری قوانین میں تبدیلی کا اعلان

ریاض ،12اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی دارالحکومت ریاض میں وزارت تجارت کے نیشنل پروگرام ٹو کامبیٹ کمرشل کنسلمنٹ کی مشترکہ نگراں ٹیموں نے ایسے پبلک سروس کے دفاتر کو بند کیا ہے جن پر مستقل ملازمت کے معاہدوں اور سوشل انشورنس کے بغیر سعودی خواتین کو ملازمت دینے کا الزام ہے۔ٹیم نے ان دفاتر کے خلاف جرمانے کی درخواست مکمل کرکے مجاز اتھارٹی کو بھیج دی۔اخبار 24 کے مطابق مشترکہ انسپیکشن ٹیموں نے ریاض شہر میں رہائشی، کام اور سرحدی سلامتی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کارکنوں کو ملازمت دینے کی خلاف ورزیوں، تجارتی پردہ پوشی، تحریری اور زائد المیعاد تجارتی ریکار اور بلدیاتی لائسنس کے بغیر عوامی خدمات انجام دینے اور خلاف ورزی کرنے والے کارکنوں کی سرگرمیوں کو پکڑا ہے۔

انسپیکشن ٹیمیں مختلف خلاف ورزیاں ریکارڈ پر لائی ہیں۔ ان میں ٹیکس انوائسز جاری نہ کرنا، ادائیگی کے لیے الیکٹرانک طریقہ کار کی عدم فراہمی، انشورنس کمپنیوں کی نگرانی کے نظام کی خلاف ورزی اس کے علاوہ لائسنس کی میعاد ختم ہونے کے باوجود مختلف سرگرمیاں انجام دینا شامل ہیں۔اینٹی کوراپ ٹیم نے ملوث افراد کیخلاف حتمی عدالتی فیصلے جاری ہونے کے بعد 5 سال قید اور 50 لاکھ ریال تک کے جرمانے اور ناجائز رقم کی ضبطی کی سزائیں عائد کیں۔


سعودیہ میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے سرمایہ کاری قوانین میں تبدیلی کا اعلان

ریاض،12اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مملکت نے اپنے ویژن 2030 کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں بڑھانے کے اقدام کے طور پر سرمایہ کاری قوانین میں نمایاں اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ غیر ملکی سرمایہ کار مملکت میں اپنے حقوق اور مفادات کو زیادہ محفوظ پائیں۔ترمیم شدہ قوانین کو مربوط اندازمیں پیش کیا گیا ہے تاکہ ان میں کسی کا سقم نہ رہے اور ہر چیز پر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ان تبدیلوں کے نتیجے میں سرمایہ کاری سے متعلق امور میں جہاں شفافیت آئے گی، وہیں سرمایہ کاروں کے جائیداد سے متعلق حقوق، اور سرمائے کے مکمل تحفظ کے ساتھ ساتھ انٹیلکچوئل پراپرٹی رائیٹس کا پوری طرح تحفظ ممکن ہو سکے گا نیز غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رقومات کی بآسانی منتقلی کی بھی سہولت ہو گی۔

سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں کاروبار کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ سے متعلق امور میں بھی آسانی پیدا ہو گی۔ مملکتی ٹرانزیکشنز اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار میں بہتری پیدا ہو گی۔ قوانین میں نئی تبدیلیوں کے نتیجے میں کمپنی ، بنکوں سے متعلق قوانین میں بھی بہتری پیدا ہوگی اور خصوصی اکنامک زون قائم کیے جا سکیں گے۔اس سلسلے میں سعودی وزیر برائے سرمایہ کاری خالد الفلاح نے کہ یہ قانون سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنے، اقتصادی ترقی کو بڑھانے، اور مملکت کے عالمی سرمایہ کاری کے لیے اولین منزل کے طور پر سعودی عرب کی حیثیت کو مزیدمستحکم کرے گاکہ مملکت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے خیر مقدمی جزبے کے ساتھ کمٹڈ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون میں تبدیلی کا مقصد مملکت میں منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا اور ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ یکساں سلوک کو یقینی بناتے ہوئے مسابقتی منڈی کے ماحول کو فروغ دینا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button