کورونا وائرس کے ہندوستان کے مختلف علاقوں اور ریاستوں میں قدم جمانے کے ساتھ ہی اسکولوں اور کالجوں کو بند کردیا گیا ہے۔میرے گھر میں بھی چھوٹے بچوں کی ۳۱ مارچ تک چھٹی ہوئی بعد میں میڈیکل میں زیر تعلیم لڑکی بھی ہوسٹل سے گھر لوٹ آئی اور اَب ایس ایس سی اِمتحان کا آخری پرچہ بھی ملتوی ہونے کے بعد بڑا بیٹا بھی پڑھائی کی فکر سے عارضی طور پر آزاد ہوگیا ہے۔
ایسے حالات میں گھر میں سب ساتھ بیٹھ کر گفتگو کررہے تھے ۔سب اپنی اپنی تعطیلات کا ذکر کررہے تھے کہ کورونا کی وجہ سے کیسے انہیں چھٹیوں کا فائدہ مل رہا ہے تو اسی دوران میری شریک حیات نے کہاکہ،’’ سب کی چھٹی ہوجاتی ہے ہمارے علاوہ …!ـ‘‘ بات تو بہت چھوٹی سی تھی مگر واقعی بڑی معنی خیز تھی۔
بچپن سے آج تک ہم نے اَپنے گھروں میں خواتین کی خدمات کا مشاہدہ کیا ہے کہ کس طرح سے ان کے دن کی شروعات صبح سویرے اس وقت ہوچکی ہوتی ہے جب گھر کے دیگر افراد اپنے بستروں میں خواب خرگوش میں مست ہوتے ہیں اور دن بھر تھکے اور رکے بغیر رات دیر گئے تک گھر کے سارے کاموں کو نمٹانا،گھر کے ہر فرد کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی کو بھی شکایت کا موقع دئے بغیرگھر کی ہر چیز کو اس کی جگہ رکھتے ہوئے سلیقہ مندی کے ساتھ امور ِخانہ داری کی تکمیل ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا تھا۔
ماضی سے حال تک یہ معمولات ہم نے اَپنی والدہ اور رشتہ داری کی دیگر بزرگ خواتین جن میں ہماری چاچیاں اور خالائیں شامل تھیں ،کو روزمرہ کی مسلسل بھاگ دوڑوالی زندگی میں یوں ہی سرگرم عمل دیکھا ہے۔ خاتون ِخانہ جسے دور ِ جدید میں ہاؤس وائف کردیا گیا ہے کی یہی کہانی ہے ۔
گھر کے معاش کے اِنتظام کے ذمہ دار مردوں کے لئے ہفتہ میں ایک دن اور ہر آنے والے تہوار یا کسی بڑے رہنما ء کے یوم ِ پیدائش پر آنے والی دفتری تعطیلات ملازمین اور تنخواہ یافتہ مردوں کو آرام فراہم کرتی ہیں مگر گھر کی خواتین کو ایسے دنوں میں چھٹی کیا ملتی ،اس کے برعکس ان کے کاموں اور ذمہ داریوں میں اضافہ کا باعث بنتی تھیں۔ گھر میں دعوتوں اور ضیافتوں کے اہتمام و انتظام میں گھر کی خواتین کا کردار سب سے نمایاں ہوا کرتا تھا۔
سماج میں عورت اَپنی پیدائش سے لے کر موت تک مختلف اہم کردار نبھاتی ہے ۔یہ ماں ہے ،بیٹی ہے ،بہن ہے اور بیوی بھی۔ یہ بہو بھی ہے اور ساس بھی ،دادی اور نانی بھی … ! عورت نے ہر ایک کردار ایمانداری سے نبھایا ہے ، زندگی کے ہر ایک کردار میں عورت نے اَنمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور ناقابل ِ فراموش خدمات انجام دی ہیں۔
ماضی سے لے کر حال تک زندگی کی دوڑ میں عورت مردکے پیچھے پیچھے کھڑی نظر آتی تھی مگر آج خواتین اَپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی نظر آتی ہیں۔
جدید دور میں سبھی اقوام عالم میں خواتین نے تعلیم میں زبردست ترقی کی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئی ہیں ۔ہندوستان اور برصغیر بھی خواتین کی نسائی ترقی کے اس سفر میں پیچھے نہیں رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی آج خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں اپنی نمایاں شناخت رکھتی ہیں۔
اپنی تعلیمی ترقی کی مدد سے ملازمت سے لے کر سیاست تک ،کھیل سے لے کرفنون تک ہر میدان خواتین نے اِنتہائی تیز رفتاری کے ساتھ کامیابی سے سر کیا ہے اور یہ سفرہنوز جاری ہے۔ان سب کے باوجودہم میں سے بیشتر اَفرادسماج میں اَیسی خواتین کے بارے میں جانتے ہیں جو برسر ملازمت ہیں،کوئی سرکاری یا پرائیویٹ نوکری کرتی ہیں،اَفسر ہیں،معلمہ ہیں،پولس ہیں یاکلرک ہیں لیکن ملازمت کی ان ذمہ داریوں کے باوجود خاتون ِ خانہ کا ٹیگ ایسی خواتین کے ساتھ آج بھی لگا ہوا ہے۔
یہ ہمارامشاہدہ ہے کہ بیشتر نوکری پیشہ خواتین اپنی نوکری سے انصاف کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی گھریلو ذ مہ داریوں کو ماضی کی خواتین کی طرح انجام دیتی ہیں۔اپ ڈاؤن کرنے والی بیشتر ملازمت پیشہ خواتین کا دن بہت سویرے صبح چار بجے سے شروع ہوتا ہے ،جس میں وہ اپنا ،اپنے بچوں اور شوہر کا کھانا بنانے کے بعد ،بچوں کو اسکول کے لئے تیار کرنے کے بعد اپنی ملازمت کے لئے سفر شروع کرتی ہیں اور اپنے دفتی کاموں کو بخوبی انجام دیتے ہوئے ڈیوٹی ختم ہونے پرشام میں گھر کا سودا سلف اور ضروری سامان لیتے ہوئے لدی پھندی گھر پہنچتی ہیں اور تو اور نوکری پیشہ خواتین کا ہفتہ واری چھٹی کا دن بھی ہفتہ بھر کے باقی رہے کاموں یا گھر کی صاف صفائی کی نذر ہوجاتا ہے۔
ہم نے تو کورونا سے متاثرہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی یہ دیکھا ہے کہ صبح میں سبزی اور دیگر ضروری سامان ِ خوردونوش کی خریداری کے لئے بھی معمول کے مطابق شہروں کی خواتین ہی کثیر تعداد میں بازاروں میں نظر آرہی ہیں۔
ویسے بھی گاؤں اور قصبوں کی خواتین بھلے ہی گھر میں رہ کرصرف کھانا پکانے اور دیگر امور خانہ داری کی تکمیل کرتی ہوں مگربڑے شہروں میں خواتین اِن کاموں کے ساتھ ساتھ گھر کا سودا سلف اور سبزی وغیرہ کی خریداری بھی کرتی ہیں۔مرد تو بس اپنی معاشی ذمہ داریاں ہی انجام دیتے ہیں یا پھر دوستوں کی بیٹھک میں ان کاوقت گزرتا ہے۔
خواتین کے تحفظ کے لئے دنیا کے بیشتر ممالک میں نت نئے قوانین متعارف کروائے گئے ہیں۔ہمارے ملک میں بھی تحفط خواتین قوانین اور حکومت کی منصوبہ بندی کی مدد سے رحم مادر میں لڑکی کر قتل ، جہیز ،گھریلو ظلم و ستم ، اور دیگرسماجی رسموں کی بیڑیاں توڑنے میں مدد ملی ہے ۔ نئی دنیاکے اس عہدکو نسائی حقوق و اختیارات کادور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا،لیکن اِن سب کے باوجود ابھی بہت کچھ باقی ہے جو ہم خواتین کی عزت و تکریم کے لئے کرسکتے ہیں۔



