سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

دالیں بیماریوں سے بچاتی ہیں

✍️ ڈاکٹر امۃ البریرہ فہمیدہ سفیان دہلی

ہر سال 10 فروری کو دالوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس کو یہ شعور دینا ہے کہ مختلف دالیں غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول دوستی کا حق بھی ادا کرتی ہیں کیونکہ ان کے پودوں کو اگنے کے لیے کھادوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پودے نہ صرف ماحولیاتی نظام ecosystems بلکہ عالمی سطح پر مختلف گرین ہاؤس ایفیکٹ کوبرقرار رکھنے میں بھی بھرپور مدد کرتے ہیں۔

دالوں کی ان خوبیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے 68ویں جنرل اسمبلی نے 2016ء کو دالوں کے سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ دالوں میں پروٹین (لحمیات) کی موجودگی کی وجہ سے انھیں گوشت کا نعم البدل کہا جاتا ہے یعنی جو افراد گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ مختلف دالیں کھا کر گوشت کی کمی پوری کر سکتے ہیں۔دالوں میں پروٹین، فائبر، آئرن، زنک، فاسفورس، فولیٹ، وٹامن بی کی وافر مقدار اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ مکمل غذائیت کی حامل ہیں۔کسانوں کے لیے دالیں اگانا ایک منافع بخش کاروبار ہے کیونکہ دالوں کی کاشت میں کسانوں کو کھاد اور کیڑے مار ادویات کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آتی لہٰذا یہ ماحول دوست فصل ہے۔

قیمت میں سستی ہونے کی وجہ سے دالیں عام آدمی کی قوت خرید میں ہیں۔ غریب سے غریب شخص بھی دال روٹی کھلا کر اپنے خاندان کو پال سکتا ہے۔ ہندوستان میں عام دستیاب دالوں میں مونگ، چنا، ماش، مسور، لال اور سفید لوبیا وغیرہ شامل ہیں۔ہمارے یہاں تقریبا ہر دوسرے فرد کی پسندیدہ غذا دال چاول ہے۔دالوں کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنا اچھی صحت کی ضمانت ہے۔ دسترخوان پر زیرے اور لہسن کے تڑکے والی دال کھانے والوں کی بھوک اور بڑھا دیتی ہے۔

بانجھ پن

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جو خواتین نباتاتی پروٹین سے بھرپور غذاؤں کا استعمال کرتی ہیں، ان میں بانجھ پن کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ دالوں سے فرٹیلائزیشن کا عمل آسان ہوتا ہے جو حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھاتا ہے۔

جسمانی توانائی

دالوں میں فائبر (نشاستہ یا ریشے دار غذا)کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو یہ ہضم سست روی سے ہوتی ہیں، جس سے جسم اور دماغ کو زیادہ وقت تک توانائی کی سپلائی جاری رہتی ہے۔ اسی طرح فائبر نیند کے لیے بھی مددگار جز ہے جس سے جسمانی توانائی کی سطح بہتر ہوتی ہے۔

وزن

ٹورنٹو کے لی کا شینگ نالج کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ ایک سو تیس گرام دالوں کا استعمال جسمانی وزن میں کمی کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جبکہ جسم میں خراب کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جسمانی وزن میں کمی دیگر اشیاء کا استعمال ترک کیے بغیر ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر لوگ دالوں کا استعمال کم کرتے ہیں تاہم جسمانی وزن کو مستحکم رکھنے کے لیے اس کے استعمال کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔

پتے کی پتھری

گوشت کم کھا کر زیادہ توجہ دالوں، بیج وغیرہ پر دینا پتے کے افعال کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے، کیونکہ چربی والا سرخ گوشت پتے میں ورم کا باعث بن سکتا ہے (اگر بہت زیادہ کھایا جائے)۔ چربی والی غذائیں جیسے تلے ہوئے پکوان، پنیر، آئس کریم اور گوشت کا اعتدال میں استعمال کرنا بھی پتے کی صحت کے لیے بہتر ہے۔

بلڈ پریشر

دالوں کا استعمال بلڈ پریشر کی شرح میں جان لیوا اضافے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کینیڈا کی مینٹوبا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسور کی دال کا استعمال خون کی رگوں کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق دالوں کا استعمال دوران خون کی خرابیوں اور بلڈ پریشر کے خلاف انتہائی فائدہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ خون کی رگوں کا نظام درست رہنے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ خودبخود کم ہوجاتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کے قائد ڈاکٹر پیٹر کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ دالیں خون کی رگوں میں تبدیلیاں لاکر ان کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت کردیتی ہیں۔

ذیابیطس

کینیڈا کی Guelph یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دال کھانا نظام ہاضمہ اور شوگر کے دوران خون میں اخراج کی رفتار سست کرتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ وار بنیادوں پر چاول یا آلو کا کم جبکہ دالوں کو زیادہ کھانا بلڈشوگر کی سطح 35 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق دال کھانے سے ہائی بلڈ شوگر کے شکار افراد ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے سے بچ جاتے ہیں کیونکہ یہ غذا انسولین کی مزاحمت کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button