
پلوامہ سی آر پی ایف حملہ: جیش محمد کے 5 دہشت گردوں کو عمر قید کی سزا
دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے پانچ دہشت گردوں کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے پیر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
نئی دہلی ،28نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے پانچ دہشت گردوں کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے پیر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے یہ سزا پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے قافلے پر حملہ کرنے اور اس کی سازش رچنے کے جرم میں سنائی ہے۔ ان پانچ دہشت گردوں میں سجاد احمد خان کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر حملے کے دوران سیکورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات دی تھیں۔پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے تمام 5 دہشت گردوں کو ملک بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے نوجوانوں کو بھرتی اور تربیت دینے کے لیے مجرم قرار دیا۔ خصوصی جج شیلیندر ملک نے سجاد احمد خان، بلال احمد میر، مظفر احمد بھٹ، اشفاق احمد بٹ اور معراج الدین کو سزا سنائی۔
جج نے اس کیس میں تنویر احمد غنی کو پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی۔عدالت نے کہا کہ تمام مجرموں نے مل کر بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجرم نہ صرف جیش کے رکن تھے بلکہ وہ دہشت گردوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور رسد فراہم کرکے ان کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ ان پانچ دہشت گردوں میں سجاد احمد خان کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر حملے کے دوران سیکورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات دی تھیں۔
جج نے کہا کہ ملزمان جموں و کشمیر کے مقامی لوگوں کو عسکریت پسندی میں جانے اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے فنڈز کا بندوبست کرنے میں بھی ملوث تھے۔مرکزی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے مارچ 2019 میں اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ 2019 میں جموں و کشمیر کے پلوامہ ضلع میں سی آر پی ایف کے قافلے پر دہشت گردانہ حملے میں 40 فوجی شہید ہوئے تھے۔



