بین ریاستی خبریں

پونے ریپ کیس کا ڈرامائی انکشاف: 22 سالہ خاتون کی شکایت جھوٹی نکلی، پولیس نے 24 گھنٹے میں راز فاش کر دیا

سیلفی خاتون نے خود لی اور ایڈیٹ کر کے اس کا چہرہ جزوی طور پر چھپایا

پونے:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پونے پولیس نے 22 سالہ ڈیٹا سائنٹسٹ خاتون کی طرف سے درج کرائی گئی ریپ کی شکایت کو جھوٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کہانی کا مقصد شہر کو خواتین کے لیے غیر محفوظ ظاہر کرنا تھا۔ پولیس کمشنر امیتیش کمار کے مطابق، خاتون نے خود ہی مکمل منصوبہ بنایا اور جھوٹا الزام عائد کر کے پولیس کو گمراہ کیا۔خاتون نے الزام لگایا تھا کہ ایک نامعلوم شخص، جو خود کو کورئیر ڈیلیوری ایجنٹ ظاہر کر رہا تھا، اس کے کنڈھوا علاقے کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوا، دروازہ بند کر کے کیمیکل اسپرے کیا اور اس کی عصمت دری کی۔ اس نے مزید دعویٰ کیا کہ ملزم نے اس کے فون سے سیلفی لی اور اس میں دھمکی آمیز پیغام چھوڑا۔تاہم پولیس کی تیز رفتاری سے کی گئی 24 گھنٹوں کی جانچ میں ان دعوؤں میں سنگین تضادات سامنے آ گئے۔

پولیس کمشنر نے کہا کہ سوسائٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں میں کوئی نامعلوم شخص دکھائی نہیں دیا۔ اپارٹمنٹ کی ڈیجیٹل انٹری میں بھی کوئی ڈیلیوری ایجنٹ رجسٹر نہیں ہوا۔ فارنزک جانچ میں کیمیکل اسپرے کے کوئی آثار نہیں ملے۔پولیس تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جس شخص کی تصویر خاتون نے بطور ملزم پیش کی، وہ اس کا پرانا جاننے والا تھا اور دونوں ایک ہی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ کمشنر کے مطابق: "سیلفی خاتون نے خود لی اور ایڈیٹ کر کے اس کا چہرہ جزوی طور پر چھپایا۔ دھمکی آمیز پیغام بھی اس نے خود لکھا۔

"پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا مگر اس کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے۔کمشنر نے کہا: "کوئی کیمیکل اسپرے نہیں تھا۔ لڑکی کی ذہنی حالت اس وقت درست نہیں ہے۔ البتہ ریپ کے الزام کی مزید جانچ جاری ہے۔”اس کیس میں ابتدا میں بھارتیہ نیاۓ سنہتا کی دفعہ 64 (ریپ)، 77 (ووئیرزم)، اور 351(2) (مجرمانہ دھمکی) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے، اس کا فون ضبط کیا اور ڈیجیٹل جانچ کی۔پونے پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کی جھوٹی شکایات درج کر کے پولیس کا وقت اور وسائل ضائع نہ کریں اور شہر کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچائیں، کیونکہ پونے کو ملک کے محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button