
پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کا فیصلہ، 19 سال کے لڑکے کو بھی لڑکی ساتھ (live-in-relationship) میں رہنے کاحق
چنڈی گڑھ، 12 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ (Punjab and Haryana High Court)نے ایک انوکھا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک 19 سالہ لڑکا اور 21 سالہ لڑکی کوبھی ایک ساتھ بغیرشادی کے رشتہ میں رہنے کا حق ہے، کیونکہ وہ بالغ ہوچکے ہیں، اس لئے اسے اس بنیاد پر ساتھ رہنے کی اجازت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ ابھی تک شادی کی قانونی عمر کو نہیں پہنچے ہیں۔
ہائی کورٹ میں معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سنگل بنچ کے جج ارون کمار تیاگی نے کہا کہ موجودہ معاملے میں درخواست گزار #بالغ ہونے کی وجہ سے لیو ان ریلیشن شپ (live-in-relationship) میں ساتھ رہنے کا حق رکھتے ہیں،اس لئے جواب دہندہ بھی نمبر چار اور پانچ سے کسی بھی #نقصان کے خلاف اپنی جان اور #آزادی کے تحفظ کے بھی حقدار ہیں۔
چونکہ درخواست گزار نے #لڑکی والوں کے خاندان سے اپنی جان کو خطرہ بتایا تھا اوراس سلسلے میں #موہالی پولیس میں بھی درخواست دائر کی تھی، اس لئے عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس جوڑے کو زندگی کے تحفظ اور آزادی کیلئے مناسب تحفظ کو یقینی بنائے۔ جوڑے نے لڑکی کے لواحقین سے تحفظ کے لئے درخواست دائر کی تھی۔ لڑکی کا کنبہ چاہتا ہے کہ وہ کسی اور سے شادی کرے۔
مبینہ طور پر اس جوڑے کو ان کی خاندانی ساکھ کے لئے اہل خانہ نے موت کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ اگرچہ لڑکا 19 سال کا ہے اور اس نے شادی کی عمر پارنہیں کی ہے۔ اس لئے #شادی کے عمر کے ساتھ ہی دونوں کی شادی ہوجائے گی۔
ایک ساتھ تعلقات میں رہ رہے جوڑے نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کو خط لکھ کر ضروری سیکیورٹی مانگی تھی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جج ارون کمار تیاگی نے اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے #پولیس کو جوڑے کی زندگی اور آزادی کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔



