چندی گڑھ، 29جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)#وزیر اعلی #پنجاب کیپٹن #امریندر سنگھ (Capt Amarinder Singh) نے سات ماہ قبل مرکزی حکومت کو ’ڈرون خطرہ‘ کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔ انہوں نے نومبر میں #وزیر اعظم #نریندر #مودی کو خط لکھ کر اس سلسلے میں اقدامات کا مطالبہ کیا تھا، واضح ہو کہ جموں میں ہندوستانی فضائیہ اسٹیشن پر حملے کے بعد رتنوچک – کالوچک اسٹیشن کے اوپر دو ڈروان اڑتے ہوئے نظر آئے ، جس کے بعد فوجی اہلکار نے فائرنگ کر کے دیگر فوجی تنصیبات پر حملہ کی سازش ناکام کردی۔
معروف انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے اعلیٰ سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سی ایم امریندر سنگھ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات سے قبل یہ خط بھیجا تھا۔ اسی دوران میٹنگ کے دوران اس مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اس خط میں انہوں نے ڈرونز سے لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا، اور اس سلسلے میں اقدامات کرنے کامشورہ دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق عہدیداروں نے بتایا کہ گذشتہ دو سالوں میں پنجاب میں 70-80 ڈرون دیکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ واقعات کے بعد انھیں بھی گولی مار کر ناکارہ کردیا گیا ۔ وزیر اعظم کو خط لکھنے کے بعد ریاست میں انٹیلی جنس سربراہ ، پنجاب پولیس اور بارڈر سکیورٹی فورس کے مابین میٹنگ ہوئی تھی ۔21 نومبر 2020 کو لکھے گئے خط میں وزیراعلیٰ پنجاب امریندر سنگھ نے چینی ساختہ ڈرون کے کے متعلق بتایا تھا ،جس نے اگست 2019 میں ہوشیار نگر میں رائفل اور بندوقیں گولی گرائی تھیں۔
اس کے ساتھ ہی گذشتہ عشرہ میں بھی فیروز پور اور ترن تارن سیکٹروں میں بھی ڈرون دیکھے گئے تھے۔ سی ایم سنگھ نے متنبہ کیا تھا کہ ہندوستانی سرحد کے اندر 5 کلومیٹر گھس کر طے شدہ مقام پر ڈرون کے ذریعہ بڑے ہتھیاروں کی ڈلیوری قومی سلامتی سے جڑا مسئلہ ہے۔



