قومی خبریں

والدین کی گرفتاری پر گولڈی برار کی پولیس اور حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی

نجاب پولیس کی کارروائی کے بعد گولڈی برار کی سنگین نتائج کی وارننگ

لدھیانہ 29-جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پنجاب پولیس نے گینگسٹر گولڈی برار کے والدین کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں 30 جنوری تک پولیس کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ یہ گرفتاری دو سال پرانے بھتہ خوری کے ایک مقدمے کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق گینگسٹر کے والدین پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور رقم نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ پولیس نے انہیں امرتسر کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا، جس کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد گولڈی برار کا ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ مبینہ آڈیو میں وہ پولیس اور حکومت کو براہ راست وارننگ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں پولیس اہلکاروں اور لیڈروں کے بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہیں۔ آڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر غیر قانونی کارروائیوں کا راستہ اپنایا گیا تو روزانہ ایک شخص کو مارا جا سکتا ہے۔

مبینہ آڈیو میں گولڈی برار یہ بھی کہتا ہے کہ اس کے بوڑھے والدین کو گولڈن ٹیمپل جاتے ہوئے گرفتار کر کے انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی، مگر وہ اس طرح کے اقدامات سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ اس آڈیو میں عورتوں کی توہین نہ کرنے کی بات کرتے ہوئے حکومتوں کے بدلتے رہنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پولیس اور لیڈروں کے مفادات پنجاب سے باہر جڑے ہوئے ہیں، جبکہ وہ خود پوری دنیا میں موجود ہیں۔

گولڈی برار مبینہ طور پر یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ اس نے کبھی کسی کو غیر قانونی طور پر قتل نہیں کیا بلکہ دشمنیوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں کیں۔ آڈیو میں کہا گیا ہے کہ جو بھی مارا گیا اس کا ریکارڈ چیک کیا جا سکتا ہے اور ایسے اقدامات سے بچنا چاہیے جو نسلوں پر محیط دشمنی کا سبب بنیں۔

دوسری جانب گولڈی برار گینگ کی جانب سے موہالی میں ہونے والے ایک قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک مبینہ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ موہالی کورٹ میں گروندر نامی شخص کے قتل کی ذمہ داری گولڈی برار، روہت گودارا اور وکی پہلوان قبول کرتے ہیں۔ پوسٹ میں مقتول کو اپنے ایک ساتھی کے قتل کا ملزم قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس عام گھرانوں کے نوجوانوں کی موت کی پروا نہیں کرتی، اس لیے وہ اپنا انصاف خود کرنے پر مجبور ہیں۔

اس معاملے کے بعد پنجاب میں سیکیورٹی ایجنسیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے وائرل آڈیو اور پوسٹس کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ اس کی صداقت اور پس منظر کو واضح کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button