بین الاقوامی خبریںسرورق

پوٹن کی روس کیلئے لڑنے والے غیر ملکیوں کو روسی شہریت کی پیش کش

روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے ایک حکم نامہ جاری کیا

ماسکو،5جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت ان غیر ملکیوں کو اپنے لیے اور اپنے خاندانوں کے لیے روسی شہریت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو یوکرین میں روس کے لیے لڑ رہے ہیں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے یوکرین میں اس فوجی کارروائی کے دوران، جسے ماسکو، ’اسپیشل ملٹری آپریشن‘ کہتا ہے، کانٹریکٹ پر دستخط کیے ہیں وہ اپنے، اپنے بیوی بچوں اور والدین کے لیے روسی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔اس کیلیے انہیں لازمی طور پر وہ دستاویزات دکھانی ہوں گی جس پرانہوں نے کم از کم ایک سال کے لیے فوجی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے دستخط کیے ہیں۔شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل لوگوں میں وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے باقاعدہ مسلح افواج یا دوسرے فوجی شعبوں کے ساتھ کانٹریکٹس پر دستخط کیے ہیں۔ یہ وہی توضیح ہے جس کا اطلاق کرائے کے جنگجوؤں کی ویگنر جیسی تنظیموں پر ہو سکتا ہے۔

اس اقدام کابظاہر مقصد یہ ہے کہ فوجی تجربے کیحامل غیر ملکیوں کو روسی فوج میں شامل ہونے کے لیے اضافی ترغیبات دی جائیں۔ماسکو یوکرین میں اپنی جانب سے لڑنے والیغیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد کا ڈیٹا شائع نہیں کرتا۔ تاہم رائٹرز نے اس سے قبل کیوبا کے جنگجوؤں کے بارے میں خبر دی تھی جنہوں نے ان بونسز کے بدلے جن کی قدر کیوبا کے عام شہری کی ماہانہ اوسط تنخواہ سے 100 گنا سے بھی زیادہ تھی، روسی فوج کی طرف سے لڑنے کے کنٹریکٹ پر دستخط کیے تھے۔ْ

رائٹرز نے ہی تین ایسے افریقیوں کے بارے میں خبر دی تھی جنہیں ویگنر نے بھرتی کیا تھا اور جن میں سے دو لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔روس نے ستمبر 2022 میں اضافی تین لاکھ مردوں کو بھرتی کیا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس کی پہلی بھرتی تھی۔ اس بارے میں مستقل قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ وہ غالباً مارچ میں اگلے صدارتی انتخاب کے بعد جس میں پوٹن اگلے چھ سال کی مدت کے لیے حصہ لیں گے، اس غیر مقبول اقدام کا اعادہ کرے گا۔تاہم کریملن نے بار بار کہا ہے کہ مزید کسی بھرتی کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ گزشتہ سال ہزاروں مردوں نے رضاکارانہ طور پر فوج میں شامل ہونے کے کنٹریکٹ پر دستخط کیے تھے تاکہ وہ پروفیشنل فوجی بن سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button