
قطر: پھانسی کے منتظر سابق ہندوستانی نیوی افسران کو ملی راحت
قطر کی عدالت نے 26 اکتوبر کو ان ہندوستانیوں کو سزائے موت کا اعلان کیا تھا
نئی دہلی،24نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) قطر کی ایک عدالت نے گزشتہ سال گرفتار کیے گئے بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق اہلکاروں کو سنائی گئی سزائے موت پر غور کرنے کے لیے بھارت کی اپیل کو قبول کر لیا ہے۔ قطر کی عدالت نے 26 اکتوبر کو ان ہندوستانیوں کو سزائے موت کا اعلان کیا تھا۔ وزارت خارجہ نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا تھا اور یقین دلایا تھا کہ حکومت تمام قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔حکومت ہند نے یہ درخواست بحریہ کے آٹھ سابق افسران کی سزائے موت کیخلاف دائر کی ہے۔ قطر کی عدالت نے اسے 23 نومبر 2023 کو قبول کیا اور اب اپیل کا مطالعہ کرکے جلد ہی اس کی سماعت شروع کرے گی۔ قطر کی حکومت نے بحریہ کے سابق افسران کے خلاف الزامات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی بحریہ کے آٹھ سابق افسران قطر میں دہرہ گلوبل ٹیکنالوجی اینڈ کنسلٹنسی سروسز نامی کمپنی کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان سبھی کو اگست 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ قطر کی عدالت نے 26 اکتوبر 2023 کو ان سابق افسران کو موت کی سزا سنائی تھی۔
ان آٹھ ہندوستانیوں کو گزشتہ سال اگست میں مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کیپٹن نوتیج سنگھ گل، کیپٹن بیرندر کمار ورما، کیپٹن سوربھ وشیشتھا، کمانڈر امیت ناگپال، کمانڈر پورنیندو تیواری، کمانڈر سوگناکر پکالا، کمانڈر سنجیو گپتا اور سیلر راگیش کو دوحہ میں گرفتار کیا گیا۔ ہندوستان نے قطر کی عدالت کے اس فیصلے کو چونکانے والا قرار دیتے ہوئے اس معاملہ میں تمام قانونی آپشنز تلاش کرنے کی بات کہی تھی۔ حکومت نے کہا تھا کہ قطر کی عدالت کی جانب سے ہندوستانی بحریہ کے 8 سابق افسران کو راحت فراہم کرنے کی تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔ جس کے بعد اب سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا تھا کہ ہندوستان اس معاملے پر قطری حکام کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور حکومت ہندوستانی شہریوں کو تمام قانونی مدد فراہم کرتی رہے گی۔ اس سارے عمل کے فیصلے کو قطر حکومت نے خفیہ رکھا ہے۔



