اسپورٹسسرورق

قطر کے قوانین کی عریانیت پر ضربِ کاری،خواتین شائقین مشکل میں،کپڑے ٹھیک نہ پہننے پر جیل جانا پڑے گا

قطر،17 نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) فیفا ورلڈ کپ کے دوران فٹ بال شائقین کی مغربی کلچر سے متاثر طرز زندگی ان کی خوشیوں کو دوبالا کرتی ہے ، رات بھر کی تفریح، ہاتھ میں شراب کے گلاس اور برہنہ اور نیم برہنہ کپڑے پہننے کی آزادی سب کچھ فیفا ورلڈ کپ کا ماحول بناتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ قطر میں ممکن نظر نہیں آتا۔ قطر میں کئی چیزوں پر پابندیاں ہیں جو فیفا ورلڈ کپ کے دوران مغرب نواز ارو برہنگی کے دلدادہ شائقین کو پریشان کرتی رہیں گی۔ یہاں سب سے اہم پابندی خواتین کے لباس کے حوالے سے ہے۔ یہاں خواتین ایسے کپڑے نہیں پہن سکتیں جس سے جسم ظاہر ہو۔ ایسے کپڑے پہننے پر جیل بھیجے جانے کی تجویز ہے۔

قطری خواتین عموماً عبایا پہن کر باہر نکلتی ہیں۔ اگرچہ بیرون ملک سے آنے والی خواتین کے شائقین کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اسے پہنیں لیکن انہیں اپنے جسم کو کندھے سے گھٹنے تک مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھنا ہوگا۔ قطر آنے والی خواتین کو بھی اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ وہ کسی بھی قسم کے تنگ کپڑے نہ پہنیں۔ ویسے عوامی مقامات پر صرف خواتین ہی نہیں مردوں کو بھی اپنے جسم کو کندھے سے گھٹنے تک ڈھانپنا پڑتا ہے۔توقع تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران قطر کے قوانین میں کچھ نرمی کی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

قطر میں اگر آنے والے فٹ بال شائقین لباس کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے تو انہیں جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ قطر فیفا ورلڈ کپ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر نیاز عبدالرحمن کے ایک تبصرے نے اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے۔نیاز نے کہا تھا کہ ہمارے پاس ہائی ریزولیوشن کیمرے ہیں تاکہ اسٹیڈ یم کی ہر سیٹ کا صاف نظارہ دیکھا جا سکے۔ سامعین کی سرگرمیاں ریکارڈ کی جائیں گی۔

اگر کچھ ہوا تو میچ کے بعد کی یہ ریکارڈنگ تحقیقات کے دوران استعمال کی جائے گی۔فیفا ورلڈ کپ کی ویب سائٹ پر غیر ملکی شائقین کو قطر کے لباس کے بارے میں مشورہ دیا گیا ہے کہ آنے والے شائقین اپنی پسند کے کپڑے ویسے بھی پہن سکتے ہیں۔ لیکن عجائب گھروں، سرکاری عمارتوں جیسے عوامی مقامات پر جاتے وقت انہیں اپنے کندھوں اور گھٹنوں کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھنا ہو گا۔اسٹیڈیم میں شرٹ اتارنا بھی ممنوع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button