نئی دہلی، 15جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ میں دائر ایک عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بہت زیادہ شواہد موجود ہیں کہ مسجد میں باقاعدگی سے نمازیں ادا کی جاتی تھیں ،جب کہ ملحقہ علاقوں میں دیگر ڈھانچوں کو مرکزی طور پر محفوظ یادگار قرار دیا گیا تھا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ نماز کے انعقاد کے سلسلے میں امن و امان میں کوئی خلل نہیں پڑا ہے۔اس پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو مرکز اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو جنوبی دہلی میں قطب مینار کے مشرقی دروازے سے متصل مسجد میں نماز کی مبینہ روک تھام کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کا جواب دینے کا وقت دیا ہے۔
جسٹس منوج کمار اوہری کو مرکز اور اے ایس آئی کے وکیل نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر ہدایات لیں گے جس کے بعد عدالت نے معاملے کی مزید سماعت 25 جولائی کو کی ہے۔سماعت کے دوران، عدالت نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ کیا وقف بورڈ نے حکام سے کوئی نمائندگی کی ہے اور بتایا گیا کہ انہوں نے کئی نمائندگی کی ہیں۔ وقف بورڈ کی منیجنگ کمیٹی نے جس کی نمائندگی ایڈوکیٹ ایم سفیان صدیقی کے ذریعے کی گئی، عرض کیا کہ یہ مسئلہ ’قطب احاطے‘ کے اندر واقع مغلیہ دور کی مسجد سے متعلق ہے لیکن ’قطب انکلوژر‘ سے باہر ہے۔



