چیمپئنز ٹرافی کیلئے دوڑ دھوپ جاری محسن نقوی کی خاموشی سے آئی سی سی حکام سے اہم ملاقات کا انکشاف
لاہور، 29نومبر (ایجنسیز) چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے دبئی میں آئی سی سی حکام سے ملاقات کر کے چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ہمیں کوئی ہائبرڈ ماڈل قبول نہیں، اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن ہے کہ تو سامنے رکھا جائے۔اسپورٹس جرنلسٹ عبدالماجد بھٹی نے انکشاف کیا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے گزشتہ روز دبئی گئے جہاں انہوں نے آئی سی سی ہیڈ کوارٹر میں مصروف دن گزارا۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے آئی سی سی حکام سے ون آن ون ملاقاتیں کیں، چیئرمین پی سی بی سی ای او آئی سی سی جیف ایلاڈائز اور دیگر حکام سے ملے لیکن لاہور میں پی سی بی کے کئی افسران ان کی دبئی روانگی سے لاعلم ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ محسن نقوی نے آئی سی سی حکام کے سامنے دبنگ طریقے سے
پاکستان کا موقف پیش کیا اور چیمپئز ٹرافی کے حوالے سے پاکستان کی قانونی پوزیشن بھی رکھی۔عبدالماجد بھٹی نے بتایا کہ محسن نقوی آج بھی دبئی میں ہیں جہاں وہ آئی سی سی کی بورڈ میٹنگ کو ویڈیو لنک پر دبئی سے جوائن کریں گے۔آئی سی سی بورڈ میٹنگ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تین شروع ہو گی جس میں چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی۔
آئی سی سی چیئرمین کی حیثیت سے یہ گریک ہارکلے کی آخری میٹنگ ہو گی، آئی سی سی کے ہنگامی اجلاس میں چیمپئز ٹرافی کی میزبانی کے حوالے سے ووٹنگ آخری آپشن ہے۔سینئر اسپورٹس جرنلسٹ نے بتایا کہ اگر باہبرڈ ماڈل کی بات کی جائے تو بلاشتہ سب سے پاپولر وینیو دبئی ہے جو پاکستان اور بھارت دونوں سے قریب ہے اور جہاں دونوں ممالک کے شہری بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن پاکستان فی الحال اس طرف سوچ ہی نہیں رہا،
اگر ایسی کوئی صورت بنتی ہے کہ محسن نقوی آئی سی سی کہیں گے میں حکومت پاکستان سے دوبارہ پوچھ کر آپ کو جواب دوں گا۔آئی سی سی میں بھارت کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالماجد بھٹی نے بتایا کہ آئی سی سی پاکستان کو سالانہ 13 ملین ڈالر دیتا ہے اور وہ بھی اسے دو قسطوں میں ملتے ہیں جبکہ بھارت کو 90 سے 95 ملین ڈالر سالانہ ملتے ہیں جو آئی سی سی کی آمدن کا 80 فیصد ہے۔
ان کا کہنا تھا اس بات کا امکان موجود ہے کہ شاید آج کی میٹینگ میں چیمئنز ٹرافی سے متعلق فیصلہ نہ ہو سکے اور یہ معاملہ اگلی میٹنگ میں چلا جائے، اس دوران جے شاہ آئی سی سی کی صدارت سنبھال لیں گے، جے شاہ سے توقع کی جائے گی کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کریں لیکن ظاہر ہے وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کریں گے اور وہ بی جے پی کی پالیسیز کو لیکر چلیں گے۔



