قومی خبریں

راہل گاندھی کو گولی مارنے کی دھمکی، کیرالہ پولیس نے بی جے پی لیڈر پر مقدمہ درج کیا

کانگریس نے اسے جمہوری اقدار پر براہ راست حملہ قرار دیا۔

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کیرالہ میں سیاست اس وقت گرما گئی جب بی جے پی لیڈر اور سابق اے بی وی پی کارکن پرنٹو مہادیو Printu Mahadev  نے ٹی وی مباحثے کے دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو قتل کی دھمکی دے دی۔ معاملہ سامنے آتے ہی ریاست بھر میں احتجاج بھڑک اٹھا اور کانگریس نے اسے جمہوری اقدار پر براہ راست حملہ قرار دیا۔

29 ستمبر کو کیرالہ پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے سکریٹری سری کمار سی سی کی شکایت پر پیرامنگلم پولیس نے مہادیو کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے ایف آئی آر میں ’بھارتیہ نیائے سنہیتا‘ (بی این ایس) کی دفعات 192 (فسادات بھڑکانے کی نیت سے اشتعال)، 353 (امن عامہ کو نقصان پہنچانے کی نیت سے دانستہ توہین)، اور 351(2) (مجرمانہ دھمکی دینا) شامل کی ہیں۔

26 ستمبر کو ایک ملیالم نیوز چینل پر بنگلہ دیش اور نیپال میں ہوئے مظاہروں پر بحث کے دوران مہادیو نے کہا کہ بھارت میں اس طرح کے احتجاج ممکن نہیں کیونکہ عوام وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے متنازعہ جملہ کہا:”اگر راہل گاندھی کو ایسے خواب آتے ہیں تو گولیاں ان کے سینے کو چیر دیں گی۔”

یہ بیان منظر عام پر آتے ہی کانگریس کارکنان سڑکوں پر اتر آئے، کئی مقامات پر دھرنے اور نعرے بازی کی گئی، جبکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بی جے پی سے سخت سوالات اٹھائے۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ محض ایک "چھوٹے کارکن کا بیان” نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت پر حملہ ہے۔ وینوگوپال نے اپنی بات ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بھی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات آئینی دائرے میں رہ کر حل کیے جائیں، دھمکیوں کے ذریعے نہیں۔

ابھی تک بی جے پی کی طرف سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت نہیں دی گئی ہے۔ تاہم، کانگریس نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا حکومت کی خاموشی اس بیان کی تائید تو نہیں؟ کیرالہ کانگریس کمیٹی کے ایک بیان میں کہا گیا:”ایک بی جے پی ترجمان ملک کے اپوزیشن لیڈر کو کھلی موت کی دھمکی دیتا ہے اور اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ کیا یہ جمہوریت کا مذاق نہیں؟”

کیرالہ پولیس نے اگرچہ مقدمہ درج کر لیا ہے لیکن یہ معاملہ ریاست کی سیاست میں زبردست ہلچل مچا چکا ہے۔ کانگریس مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے کہ ایسے بیانات کو معمولی سمجھنے کے بجائے سخت اور مثالی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی سیاست کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button