قومی خبریں

ووٹ چوری جمہوریت کا قتل، راہل گاندھی کے الزام پر لوک سبھا میں ہنگامہ

راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر سوال؛ حکومت کے شدید اعتراضات

الیکشن کمیشن، RSS اور ادارہ جاتی خود مختاری پر شدید تشویش کا اظہار

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) لوک سبھا میں ووٹر لسٹوں کے خصوصی نظرثانی عمل (Special Intensive Revision – SIR) پر جاری بحث اس وقت گرما گئی جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے انتخابی شفافیت، ادارہ جاتی خود مختاری اور جمہوری ڈھانچے کے مستقبل سے متعلق کئی سنگین سوالات اٹھائے۔ راہل گاندھی کی تقریر کے دوران ایوان میں بارہا ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، خصوصاً اس وقت جب انہوں نے الیکشن کمیشن اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) پر کھلے عام نکتہ چینی کی۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہندوستان کی جمہوری طاقت ووٹ کے تقدس سے جڑی ہے، اور اگر ووٹ کا عمل متاثر ہو تو پورا نظام ہل کر رہ جاتا ہے۔ انہوں نے بے ضابطگیوں کے الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی ریاستوں میں SIR کے دوران شکایات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے اس عمل کی سخت نگرانی اور شفافیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ادارہ جاتی اعتماد کمزور ہونے سے انتخابی ساکھ براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔

راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں الزام عائد کیا کہ ’’ہندوستان کے اداروں پر قبضے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل سے چیف جسٹس آف انڈیا کو ہٹایا جانا ادارے کو سیاسی اثر و رسوخ کے قریب لے جاتا ہے، جو انتخابی نظام کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کو سی سی ٹی وی فوٹیج محض 45 دن بعد ضائع کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ ’’اس قانون کا مقصد کیا ہے؟ شفافیت کم کرنے کی کیا مجبوری تھی؟‘‘

گاندھی نے اپنی تقریر کو مزید سخت کرتے ہوئے انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت کو ’’الیکشن چوری‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق ’’سب سے بڑا ملک دشمن عمل ووٹ چوری ہے، کیونکہ جب ووٹ کی حرمت پامال ہوتی ہے تو ملک کا پورا تانا بانا بکھر جاتا ہے۔‘‘ ان کے اس بیان پر حکومتی بینچوں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا اور ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا۔

راہل گاندھی نے ناتھورام گوڈسے کے ہاتھوں مہاتما گاندھی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’گاندھی جی کے قتل کے بعد منصوبہ وہیں ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ اگلا مرحلہ ہندوستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا تھا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ آج بھی کئی اداروں کی فیصلہ سازی میں ایک مخصوص نظریے کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی میرٹ یا علمی قابلیت کے بجائے نظریاتی وابستگی کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ اسی طرح خفیہ ایجنسیوں اور تفتیشی اداروں پر کنٹرول نے سیاسی عدم توازن کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان کے مطابق ’’سی بی آئی، ای ڈی، اور انکم ٹیکس جیسے ادارے اگر جانبدار ہو جائیں تو جمہوریت کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر بھی براہِ راست سوال اٹھایا اور کہا کہ ’’میں یہ بات جذبات میں نہیں کہہ رہا، حقائق پر مبنی شواہد سامنے رکھ چکا ہوں کہ انتخابی ادارہ کس طرح اقتدار کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادارہ جاتی ڈھانچے پر بڑھتا ہوا کنٹرول انتخابی عمل کو یکطرفہ بنا سکتا ہے۔

ایوان میں بارہا ہنگامہ آرائی کے باوجود راہل گاندھی نے اپنی بات مکمل کی اور کہا کہ ’’ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو ووٹوں کے بنے ہوئے تانے بانے سے وجود میں آیا ہے۔ اگر ووٹ کی حرمت مجروح ہو جائے تو یہ اتحاد کمزور پڑ جاتا ہے۔‘‘

بحث کے اختتام پر اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ انتخابی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کا جواب حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں کو دینا چاہیے، کیونکہ انتخابی ساکھ پوری جمہوریت کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button