گجرات کی 10 گمنام پارٹیوں کو پانچ برس میں 4300 کروڑ کا چندہ، راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کی خاموشی پر اٹھائے سوالات
کیا ان گمنام پارٹیوں سے بھی الیکشن کمیشن حلف نامہ مانگے گا؟
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو سخت کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ بہار میں جاری اپنی "ووٹ ادھیکار یاترا” کے دوران وہ مسلسل ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور اب انہوں نے سیاسی چندے کے ایک بڑے انکشاف پر الیکشن کمیشن سے سوال پوچھا ہے۔
دینک بھاسکر کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گجرات کی 10 گمنام پارٹیوں کو گزشتہ 5 برسوں میں 4300 کروڑ روپے کا چندہ ملا ہے۔ ان پارٹیوں نے نہ صرف انتخابی سیاست میں بہت کم حصہ لیا بلکہ پورے ملک میں لوک سبھا اور اسمبلی الیکشن کے دوران کُل ملا کر صرف 54,069 ووٹ حاصل کیے۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف 23 افراد نے ان پارٹیوں کو چندہ دیا ہے۔
راہل گاندھی نے اس خبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر شیئر کرتے ہوئے کہا:
"گجرات میں کچھ ایسی گمنام پارٹیاں ہیں جن کا نام کسی نے نہیں سنا، لیکن 4300 کروڑ کا چندہ ملا ہے۔ ان پارٹیوں نے یا تو بہت ہی کم بار الیکشن لڑا ہے یا خرچ کیا ہے۔ آخر یہ ہزاروں کروڑ کہاں سے آئے، کون چلا رہا ہے انہیں، اور یہ پیسہ گیا کہاں؟”
انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ اگر ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کا الزام لگانے پر ان سے حلف نامہ مانگا جا سکتا ہے تو کیا ان گمنام پارٹیوں سے بھی الیکشن کمیشن حلف نامہ مانگے گا؟ یا پھر اس معاملے میں بھی کوئی نیا قانون بنا کر حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جائے گی؟
راہل گاندھی کا الزام ہے کہ ملک میں الیکشن کمیشن اس وقت غیر جانبدار ادارہ نہیں رہا بلکہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کے لیے کام کر رہا ہے۔ گجرات کے چندہ اسکینڈل کو لے کر بھی انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب کمیشن اس معاملے پر کارروائی کرے گا یا خاموشی اختیار کرے گا؟
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راہل نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ کئی بار ووٹر لسٹ میں گڑبڑی اور انتخابی شفافیت پر کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کر چکے ہیں۔ تاہم گجرات کی ان 10 پارٹیوں کو ملنے والے 4300 کروڑ روپے کے چندے نے ملک کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔



