"الیکشن کمیشن بتائے، کیا ووٹر لسٹ درست ہے یا جعلی؟ عوام کو اعتماد نہیں!” – راہول گاندھی
"آئین کی بنیاد ووٹ ہے، اور اگر ووٹ ہی مشکوک ہو جائے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔"
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ووٹر لسٹ کی شفافیت اور انتخابی عمل پر سنگین سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ووٹر لسٹ پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ اس میں جعلی ووٹرز کو شامل کیا گیا ہے۔
راہول گاندھی نے مہاراشٹر اور ہریانہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "آئین کی بنیاد ووٹ ہے، اور اگر ووٹ ہی مشکوک ہو جائے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر میں انتخابی عمل چوری ہوا ہے، جہاں مبینہ طور پر 40 لاکھ ایسے ووٹرز ہیں جو "پراسرار” انداز میں لسٹ میں شامل کیے گئے۔
انہوں نے سوال کیا کہ "کیا الیکشن کمیشن بتا سکتا ہے کہ ووٹر لسٹ درست ہے یا غلط؟” راہول نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے بارہا مطالبہ کرنے کے باوجود کانگریس کو الیکٹرانک ڈیٹا فراہم نہیں کیا، بلکہ جواب دینے سے بھی انکار کر دیا۔
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ جمہوریت میں ہر حکومت کو اینٹی انکمبینسی (حکومت مخالف رجحان) کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن بی جے پی اس سے محفوظ دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے ہریانہ، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں کے انتخابی نتائج کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایگزٹ پولز اور رائے عامہ کے سروے ایک بات کہتے ہیں، مگر حتمی نتائج اس سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔
راہول گاندھی کے مطابق کانگریس کے پاس بھی اپنا اندرونی سروے موجود ہے، جو نہایت پیشہ ورانہ اور جدید ہے، اور اس نے بھی ان نتائج پر سوالیہ نشان کھڑے کیے ہیں۔ان بیانات کے بعد ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں اپوزیشن انتخابی نظام کی شفافیت پر زور دے رہی ہے اور عوام میں بھی اس حوالے سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
LIVE: Press Conference – #VoteChori | Indira Bhawan, New Delhi https://t.co/BlZwacZpto
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 7, 2025



