ساورکر کے متعلق جو کہا وہ تاریخی حقائق ہیں : حکومت بھارت جوڑو یاترا روکنا چاہتی ہے تو شوق سے روکے: راہل گاندھی
آکولہ ، مہاراشٹر ،17 نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘ ایک یاترانہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک سفر ہے ،یہ یاترا کسانوں ، محنت کشوں ، نوجوانوں اور چھوٹے کاروباریوں کے مسائل اور ان کے حالت زار سے واقف ہونے کے لیے ہے ،یہ پدیاتر املک کو جوڑنے کے مقصد سے نکلی ہے جس سے آپسی محبت و بھائی چارہ کا پیغام دیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود اگر اس یاترا کو حکومت رو کنا چاہتی ہے تو شوق سے روکے۔ یہ باتیں آج یہاں ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہیں۔ بھارت جو ڑو یاترا کے در میان راہل گاندھی کی یہ چھٹی پر یس کا نفر نس تھی جو چانی پھاٹأ، واڈی گاؤں ضلع آکولہ میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں ایک جانب تعصب و منافرت کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی سوچ ہے تو دوسری جانب آپسی محبت و بھائی چارے کی بنیاد پر ملک کو جوڑنے کی سوچ ہے۔
تعصب اور منافرت سے ملک کمزور ہو تا ہے۔ کثرت میں وحدت ہی اس ملک کی شناخت ہے اور یہ شناخت قائم رکھنے اور ملک کو جوڑنے کے لیے کنیا کماری سے کشمیر تک یہ یاتر ا جائے گی ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مہاراشٹر میں اس پد یاترا کو عوام کا زبر دست تعاون مل رہا ہے جس سے مجھے بہت سی باتیں سیکھنے کو مل رہی ہیں۔ مہاتما گاندھی پوراملک چھوڑ کر ودربھ میں ہی کیوں رہنا پسند کیے ؟ اس کا جواب مجھے و در بھ کی سرزمین پر آکر ملا۔ اصل کانگریس و در بھ ، مہاراشٹر میں ہی ہے، یہ کانگریس کے نظریات کی سرزمین ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ ساور کر کے بارے میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں غلط کیا ہے ؟
میں نے وہی باتیں کہی ہیں جو تاریخی سچائی ہے۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر ساور کر کے ذریعے انگریز حکومت کو لکھا گیا خط بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا اور اس میں سے کچھ حصے پڑھ کربھی سنائے۔راہل گاندھی نے کہا کہ مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، سر دار پٹیل کو بھی انگریزوں نے کئی برسوں تک جیل میں بند رکھا لیکن انہوں نے انگریز حکومت کو کبھی کوئی خط لکھ کر رہا نہیں ہوئے۔ یہی ان دونوں نظریات کا فرق ہے۔ ایک گاندھی کا نظر یہ ہے تو دوسراساور کر کا۔



