سرورققومی خبریں

راہول گاندھی کا پارلیمنٹ میں اظہار رائے پر اعتراض: "مجھے بولنے نہیں دیا جاتا

راہول گاندھی کا شکوہ: "مجھے ایوان میں بولنے نہیں دیا جاتا"

نئی دہلی، 26 مارچ: (اردودنیا.اِن/ایجنسیز) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے بدھ کو اسپیکر پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا، "جب بھی میں لوک سبھا میں اپنی بات رکھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، مجھے بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایوان کیسے چل رہا ہے۔”

دراصل، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن لیڈر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایوان کے طرزِ عمل اور آداب کی پیروی کریں، کیونکہ کچھ واقعات پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں ہیں۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ انہیں ایوان میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔

"اپوزیشن کو دبایا جا رہا ہے” – راہول گاندھی

راہول گاندھی نے مزید کہا، "ایک پارلیمانی روایت ہے جس میں قائد حزبِ اختلاف کو بولنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن جب بھی میں کھڑا ہوتا ہوں، مجھے روک دیا جاتا ہے۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا، میں خاموشی سے بیٹھا تھا، پھر بھی مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔”

انہوں نے مزید کہا، "جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے جگہ ہوتی ہے، لیکن یہاں صرف حکومت کے لیے جگہ ہے۔ اس دن وزیر اعظم نریندر مودی نے مہا کمبھ میلے پر بات کی تھی، اور میں اپنی رائے شامل کرنا چاہتا تھا۔ میں بے روزگاری پر بات کرنا چاہتا تھا، لیکن مجھے سچ بولنے کی اجازت نہیں ملی۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button